حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 441
حقائق الفرقان ۴۴۱ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ اب ہمیں آسائش ہو جاوے گی۔ اس پر یہ حکم آیا کہ اے نبی ! اپنے گھر والوں سے کہہ دو کہ اگر تمہارا اصل منشاء دنیا والی زندگی اور اس کی زیب وزینت کا خیال ہے تو آؤ ہم تمہیں کچھ دے کر علیحدہ کر دیتے ہیں۔ اور اگر یہ منشاء ہے کہ خدا راضی ہو۔ اس کا رسول راضی ہو۔ آئندہ سکھ پاؤ تو یا درکھو کہ خدا کسی کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔ اے نبی کی بیبیو! اگر تم میں سے کوئی بدی کا ارتکاب کرے گی تو اس کو دو ہرا عذاب ملے گا اور یہ بات خدا ۔ یہ بات خدا پر آسان ہے اور جو کوئی تم میں سے خدا اور رسول کی اطاعت کرے گی اور عمل صالح کرے گی ۔ دو گنا اجر دیں گے۔ اے نبی کی بیبیو! کیا تم عام عورتوں کی طرح تو ہو نہیں۔ جبکہ تم نے متقی بنے کا ارادہ کیا ہے تو کوئی ایسی بات نہ کرنا کہ جس میں کسی شریر کا لحاظ پایا جاوے۔ اور ایسی بات کہو جو بھلی اور پسندیدہ ہو ۔ اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہو ۔ اور جاہلوں کی طرح باہر نہ نکلا کرو۔ اور درست رکھو نماز کو اور ادائے کروز کوۃ کو اور اطاعت کرو خدا اور رسول کی ۔ تحقیق ارادہ کر لیا ہے۔ خدا نے یہ کہ دور کر دے تم سے ہر قسم کی ناپاکی ۔اے گھر والو۔ اور تمہیں پاک کرے۔ اب غور کرو یہ نبی کی بیبیوں کا حکم ہے۔ تم میں اگر ہماری ام المومنین ہیں تو حکم پہلے ان کے لئے ہے کہ تمہارے لئے دنیا اور اس کی زینت کا ارادہ کرنا ۔ خدا کا منشاء نہیں ۔ جب وہ خدا اور رسول اور یوم آخرت کا ارادہ کریں گی۔ تو خداوند ضائع نہ کرے گا۔ اور اگر تم سے کوئی غلطی ہوگی تو دو ہر اعذاب ہوگا کیونکہ ان کے چال چلن کا اثر دوسری عورتوں پر پڑے گا ۔ اگر وہ اپنے خاوند کے حالات پر غور نہ کریں گی اپنا نیک نمونہ دوسری عورتوں کو نہ دکھاویں گی تو بہت بڑا جواب دہ ہونا پڑے گا۔ خدا کا منشاء ان کے لئے بھی وہی ہے جو رسول اللہ کی بیبیوں کیلئے تھا۔ اب جس قدر بیبیاں ان کے ماتحت ہیں۔ لازمی ہے کہ وہ ان کا نمونہ اختیار کریں گی ۔ ہماری ایک چھوٹی سی بچی ہے وہ عقل نہیں رکھتی۔ پر ہمیں دیکھ کر کاغذ ، قلم ، دوات سے لکیریں ڈالتی رہتی ہے پس جبکہ انسان کی جبلت اس طرح پر واقع ہوئی ہے تو عورتیں بھی نمونہ کی محتاج ہیں۔ بہت سی عورتیں باہر سے آئیں۔ اگر وہ وہی نمونہ یہاں آ کر بھی دیکھیں جو ان کے اپنے دنیاوی گھروں میں ہے تو پھر وہ سست اور کاہل ہو جاویں گی۔ پھر اگر یہاں چستی اور نیکی اور دینداری کا نمونہ دیکھیں گی تو خود بخود نمونہ