حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 35
حقائق الفرقان ۳۵ سُورَةُ طُهُ ہے اسے بھی جانتا ہے يَعْلَمُ السِّرِّ وَاخْفی۔ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنی ۔ قرآن میں اللہ کیلئے صفات کا لفظ کہیں نہیں آیا۔ اسماء ہی فرمایا۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۳ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۱۱ ء صفحه (۴) ١٠ ، ا ا - وَهَلْ اَتْكَ حَدِيثُ مُوسَى - إِذْ رَا نَارًا فَقَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي انَسْتُ نَارًا لَعَلَى آتِيكُمْ مِنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى - ترجمہ ۔ کیا تجھ کو موسیٰ کی بات پہنچی۔ جب اس نے آگ دیکھی تو اپنے گھر کے لوگوں سے کہا کہ تم ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے تا کہ میں تمہارے پاس اس میں سے ایک انگارا لے آؤں یا آگ پر کچھ پتہ مل جائے۔ تفسیر۔ کیا موسی کی بات تجھے پہنچی۔ جب اس نے آگ دیکھی ۔ پس اپنے اہل کو کہا۔ ٹھہر جاؤ۔ میں نے آگ دیکھی ہے تو کہ میں وہاں سے انگاری لے آؤں یا آگ پر کوئی راہ بتانے والا مجھے مل جاوے۔ پس جب اس کے پاس آیا۔ پکارا گیا ۔ اے موسیٰ یقیناً میں تیرا رب ہوں۔ اس آیت سے صاف واضح ہے کہ آگ خدا نہیں اور نہ آگ سے ندا آئی۔ بلکہ ندا کرنے والے نے تو یہ کہا کہ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا (النمل ( ۹ ) یعنی آگ میں کے اور اس کے ارد گرد والے کو برکت دی گئی۔ اور اللہ تعالیٰ تو جہانوں کا اور ان سب اشیاء کا جن سے اس کا علم آتا ہے۔ جن میں آگ بھی ایک ہے۔ پالنے والا ہے۔۔۔۔۔۔ جناب موسیٰ علیہ السلام نے آگ سے باتیں نہیں کیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا۔ موسیٰ علیہ السلام نے صرف اللہ تعالی کی آواز سنی ۔ محیط الکل اللہ تعالیٰ نے ہرگز آگ میں حلول نہیں فرمایا ۔ اسی قصہ میں دوسری جگہ فرمایا ہے۔ إِنِّي أَنَسْتُ نَارًا لَعَلَى آتِيَكُمْ مِنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ جَزْوَةٍ مِنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ ) (القصص - ۳۰) لے میں نے آگ دیکھی ہے تا کہ تمہارے پاس لے آؤں اس سے کچھ خبر یا آگ کی ایک چنگاری کہ تم لوگ تاپو ۔ ( ناشر )