حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 439 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 439

حقائق الفرقان ۴۳۹ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ قل لأزواجك ۔ اس سے پہلے مال و منال دینے کا ذکر کیا ہے۔ تو ساتھ نبی کی بیویوں کو سنا دیا کہ یہ دنیا کے ساز و سامان تمہارے لئے نہیں ۔ اس بات کا خیال بھی نہ کرنا۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ۔ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۷۴) یہ آیتیں قرآن شریف کے ۲۱ پارہ کے اخیر اور ۲۲ کے ابتدا کی ہیں ۔ ان میں خدا نے ایک گھر والیوں کو وعظ فرمایا ہے۔ اس گھر اور اس واعظ کا وعظ اور جن بیبیوں سے اس واعظ کا تعلق ہے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ اس سے میری غرض یہ ہے کہ واعظ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور وہ وہ گرامی ذات ہے جس کیلئے دنیا کو یہ حکم ہوا کہ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : ۳۲) کہ اگر تم کو یہ منظور ہے کہ خدا کے محبوب بنو تو اس کی اتباع کرو۔ جب انسان کسی کا پیارا بنتا ہے تو پیار کرنے والا اپنے پیارے کی تکلیف کو پسند نہیں کرتا۔ اگر کسی غلطی کی وجہ سے وہ کسی تکلیف میں ہو تو اس کی تکالیف کو دور کرتا ہے مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ محبوب کی تکلیف دیکھتے اور اس کو دور نہیں کر سکتے ۔ اس لئے کہ ان میں طاقت دور کرنے کی نہیں ہوتی ۔ مگر خدا تو کامل قدرت اور کامل علم والا ہے۔ پس خدا نے فرمایا کہ اگر تم کو مجھ سے تعلق ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو ۔ پھر تم میرے محبوب بن جاؤ گے۔ جب تم اس کے محبوب بن جاؤ گے تو ہر ایک قسم کے سامان تمہارے لئے اللہ تعالیٰ مہیا کرے گا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پاک بندے سے گھر میں وعظ کروایا ۔ اس لئے کہ ہم اس پر عمل کر کے فضل اور ابدی آرام حاصل کریں ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وعظ کیا اور اپنی بیبیوں کو سنایا ۔ وہ بیبیاں کیسی تھیں۔ الطَّيِّبَتُ لِلطَّيِّبِينَ - ( النور : ۲۷) پس ان بیبیوں کو وعظ سنایا۔ ہم کو اتباع کا حکم ہے اس لئے یہ وعظ مجھ کو دو طرح پر سنانے کیلئے مامور کیا جاتا ہے۔ پہلے اے پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے ہیں ۔