حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 435
حقائق الفرقان ۴۳۵ سُورَةُ الْأَحْزَابِ تفسير - أَشِعَةً عَلَيْكُم ۔ تم پر جان قربان کرنے میں بخیل ہیں ۔ - اشِحَةً عَلَى الْخَيْر - مال دینے میں بخیل ہیں ۔ ( بدر جلد نمبر ۲۶ مورخه ۲۹ ستمبر ۱۹۰۵ صفحه ۶) ۲۲- لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَ الْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا - ترجمہ ۔ تمہارے لئے موجود ہے اللہ کے رسول میں نیک چلنی کا نمونہ اس شخص کے لئے جو امید رکھتا ہے اللہ (کے ثواب ) اور آخرت کے دن کے حساب سے نجات کی) اور اللہ کو بکثرت وہ یاد کرتا رہتا ہے۔ تفسير - لكمْ فِي رَسُولِ اللهِ ۔ کئی لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ جب انہیں بتایا جائے ۔ یہ کام یوں کرنا چاہیے۔ تو وہ کہتے ہیں۔ کیا ہم بھی کوئی نبی ہیں۔ یہ بالکل غلط راہ ہے۔ نبی کا نمونہ نہ اختیار کیا جاوے تو کسی فرعون یا ہامان کی پیروی کرنی چاہیے۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۵ مورخہ یکم ستمبر ۱۹۱۰ صفحه ۲۰۴) تمہارے لئے اللہ کے رسول کا عمدہ نمونہ ہے۔ اس نمونہ کی بموجب اپنے اعمال بناؤ۔اس لئے مسلمانوں کو رسول کریم کے افعال ۔ اعمال اور ہر قسم کے نمونہ کے علم کی ضرورت ہے۔ اسی لئے صحابہ نے حضرت رسول کریم کے پوشیدہ سے پوشیدہ امور کو دریافت کیا اور بعد والوں نے جہاں تک ان کی طاقت تھی حضرت رسول کریم کے دیکھنے والے یا دیکھنے والوں کے دیکھنے والوں سے اسی طرح سلسلہ سے حضرت رسول کریم کے قول اور فعل کو اکٹھا کیا تا کہ حضرت رسول کریم کا نمونہ ہاتھ آئے ۔ ہمیشہ سے قاعدہ ہے کہ کوئی کاریگر جب کوئی چیز نمونہ کے بموجب بناتا ہے۔ تو نمونہ آگے رکھ لیتا ہے۔ اس لئے صحابہ کے لئے حضرت رسول کریم نمونہ تھے۔ اور وہ حضرت رسول کریم کو دیکھ کر ان کے قدم بقدم چل کر کامیاب ہوئے۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۰) ۲۳ - وَ لَمَّا ذَا الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللهُ وَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيْمَانًا وَ تَسْلِيمًا - صَدَقَ ترجمہ ۔ اور جب دیکھا ایمانداروں نے لشکروں کو کہنے لگے کہ یہ وہی ہے جس کا ہم سے وعدہ کیا تھا اللہ اور اس کے رسول نے اور سچ فرمایا تھا اللہ اور اس کے رسول نے اور اس واقعہ نے ان کے ایمان اور فرمانبرداری ہی کو زیادہ کیا۔