حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 432 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 432

حقائق الفرقان ۴۳۲ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ مَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيْمَانًا وَ تَسْلِيمًا (الا احزاب: (۲۳) اس آیت سے صاف واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حملے کی بابت پہلے ہی خبر دے دی تھی اور یہ خبر علی العموم موافق و مخالف میں پھیلی ہوئی تھی۔ چنانچہ وَإِذْ يَقُولُ الْمُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا (الاحزاب : ۱۳) اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ منافق وغیرہ مخالفین بھی پہلے ہی سے اس وعدے کو خوب جانتے تھے گواب بے ایمانی اور بزدلی نے انہیں قائم نہ رہنے دیا۔ نکتہ - لفظ وعدنا جو مسلمانوں کے منہ سے نکلا صاف بتلاتا ہے کہ وہ شروع ہی سے اپنی کامیابی پر وثوق گلی رکھتے تھے۔ کیونکہ وعد کے معنی ہیں۔ کسی کو اس کے مفید مطلب وعدہ دینا بخلاف ایعاد کے کہ اس کے معنے دھمکی دینا اور ڈرانا ہے۔ اب ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ اس وعدے کا ذکر خود قرآن کی ایسی سورۃ میں موجود ہے جو سکے میں اتری وہ آیت یہ ہے۔ جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزَابِ (ص: ۱۲) أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيع مُنْتَصِرُ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُونَ النُّبُرَ القمر: ۴۵-۴۶) - ( فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۵۵ تا ۷ ۲۵) اے اور جب مسلمانوں نے ان جماعتوں کو دیکھا بول اٹھے یہ تو وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا اور سچ کہا اللہ اور اس کے رسول نے اور ان میں ایمان اور تسلیم اور بھی بڑھ گیا۔ ۱۲ - ۲ے اور جس وقت منافق اور بیمار دل لوگ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول نے تو ہم سے دھوکا کھیلا ۔۱۲۔۳۔ احزاب ( جماعتیں) احزاب کے بڑے بڑے لشکر اس جگہ شکست کھا جائیں گے۔ ۴ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم بدلہ لینے والی جماعتیں ہیں۔ عنقریب یہ سب لوگ شکست دیئے جائیں گے اور بھاگ نکلیں گے۔ ۱۲