حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 429
حقائق الفرقان ہے۔ اور احزاب کے قصہ میں کہتا ہے۔ ۴۲۹ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ إِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا - هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا (الاحزاب : ۱، ۱۲) جہاں یہود کی سزا کا قرآن نے تذکرہ کیا ہے وہاں صاف وجہ سزا کو بیان فرمایا ہے اور اسی سورۃ میں کہا ہے۔ وَ أَنْزَلَ الَّذِينَ ظَاهَرُوهُم مِّنْ اَهْلِ الْكِتَبِ مِنْ صَيَاصِيْهِمْ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِيقًا تَقْتُلُونَ وَ تَأْسِرُونَ فَرِيقًا - ( الاحزاب : ۲۷) آپ کے ساتھی گھبرا گئے ۔ ادھر تھوڑے سے معدود گروہ پر سارے عرب کی چڑھائی۔ ادھر گھر میں یہود کی بد عہدی ۔ پھر یہود مدینے کے طرق اور راستوں کی کیفیت سے واقف محاصرین کفار کو غیر محفوظ مقام بتا سکتے تھے۔ اس لئے بڑا خوف ہوا۔ علاوہ برآں منافقوں کا نکل بھاگنا اور کمزور دلوں کا عذر بلاؤں پر بلائیں لایا۔ قربان جائیے الہی عاجز نوازی کے اسی کے جنود نے ان سب اعداء کو بھگوڑا بنایا اور تخمیناً ایک مہینے کے محاصرے پر کفار عرب الہی اسبابوں سے بھاگ گئے ۔ کیونکہ دس ہزار کی بھیڑ کے ساتھ تین ہزار اسلامیوں میں سے صرف تین سو باقی رہ گئے تھے (وہی جو سچے مسلمان تھے ) جب دشمن خود بخود بھاگ گئے اور آپ کو ان کی طرف سے امن ہوا۔ اور یہ اندیشہ مٹ گیا تو اہل اسلام کو ایک نیا کھٹکا ہوا کہ بنو قریظہ عہد شکنی کر چکے ہیں۔ اگر انہوں نے مدینے پر شب خون مارا تو ہر ایک اسلام والا قتل ہو جائے گا۔ لے جب آئے وہ لوگ او پر تمہارے اور نیچے تمہارے سے اور جب کج ہوئیں آنکھیں اور پہنچ گئے دل گلوں تک اور تم گمان کرتے تھے اللہ کے ساتھ طرح طرح کے۔ اس جگہ ایمان والے آزمائے گئے اور بلائے گئے بلا نا سخت ۔ اور اتارا اللہ نے ان لوگوں کو جنہوں نے اہل کتاب سے ان کی مدد کی ان کے قلعوں سے اور ڈالا ان کے دلوں میں خوف کو ۔ ایک گروہ کو تم ہلاک کرتے ہو اور ایک گروہ کو تم قید کرتے ہو۔