حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 426 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 426

حقائق الفرقان ۴۲۶ الْحِكْمَةَ وَآتَيْنَهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا (النساء : ۵۵) سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ قریش اس بات سے نہایت خوش ہوئے اور اجتماع عظیم کیا۔ پھر وہ یہود غطفان قیس کے پاس آئے اور وہی مضمون پیش کیا اور کہا کہ قریش سب اس امر میں ہم سے متفق ہیں۔ وہ بھی جمع ہوئے قریش اور غطفان نکل کھڑے ہوئے ۔ قریش کا سپہ سالا را بوسفیان تھا اور غطفان کا عیینہ بن حصین فزاری ۔ غرض دس ہزار فوج جرار بڑے بڑے منصوبے باندھ کر خدائی لشکر کے مقابلے کو روانہ ہوئی قریش تو مدینے کے اس طرف اترے جہاں بارشی ندیاں بہتی تھیں ۔ بنی کنانہ ، اہل تہامہ ، بنو قریظہ ، بنونضر ، غطفان ، اہل نجد وغیرہ احد کی طرف اترے۔ اور مسلمان وہاں اترے جہاں سلع نام پہاڑ ان کے عقب میں تھا۔ اور تعداد میں فقط تین ہزار تھے۔ حیی بن اخطب خیبر کا ایک یہودی کعب بن اسد قرظی رئیس بنی قریظہ کے پاس آیا اور کعب قبل اس کے اپنی قوم کی جانب سے آنحضرت کے ساتھ مسالمت کا معاہدہ کر چکا تھا۔ کعب قرظی نے یہ کہہ کر دروازہ بند کر لیا کہ میں نے آنحضرت سے معاہدہ کر لیا ہے اور میں نے اس شخص کو سوائے وفا و صدق کے نہیں دیکھا۔ اس لئے میں نقض عہد نہیں کرنے کا ۔ ابن اخطب نے بڑے زور سے اس سے کہا کہ او کمبخت میں تو لشکرِ کرار اور فوج جزار تیرے پاس لایا ہوں ۔ دیکھ وہ مجتمع الا سیال ( ندیاں بہنے کی جگہ ) میں اترے پڑے ہیں۔ اور غطفان ان کے مقدمہ انجیش ہیں۔ وہ احد کے پاس ٹھہرے ہیں اور مجھ سے ان سب جماعتوں نے مضبوط عہد باندھا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے استیصال کئے بغیر یہاں سے ملیں گے نہیں۔ غرض بڑے الحاح واصرار سے کعب راضی ہو گیا۔ اور نقض عہد کی شامت سے نہ ڈرا۔ جب یہ خبر آ نحضرت کو ہوئی۔ آپ نے سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ اور ابن رواحہ اورخوات کو اس لئے بھیجا کہ یہود کی خبر لاویں۔ کہیں کفار مکہ سے مل تو نہیں گئے ۔ جب یہ لوگ وہاں پہنچے۔ دیکھا لے یا حسد کرتے ہیں لوگوں کا اس پر جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے سو ہم نے تو دی ابراہیم کے گھر میں کتاب اور علم اور ان کو دی ہم نے بڑی سلطنت ۔