حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 425
حقائق الفرقان ۴۲۵ سُوْرَةُ الْأَحْزَابِ مِنْ فَوْقِكُمْ ۔ باہر سے آئے ۔ مِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ ۔ مدینہ کے دشمن یہود جو بر خلاف معاہدہ بیرونی دشمنوں کے ساتھ مل گئے تھے۔ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ ۔ دل دھڑکتے ہوئے حجرے پر معلوم ہوئے ۔ ( بدر جلد نمبر ۲۶ مورخه ۲۹ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۶) غزوہ خندق جسے غزوہ احزاب بھی کہتے ہیں ( وجہ تسمیہ اسکی یہ ہے کہ آپ نے سلمان کے کہنے پر اپنی فوج کے گردا گرد خندق کھد والی تھی جیسا اس زمانے میں اہل فارس کا دستور تھا ) اس موقع پر عرب کے بہت سے قبائل اہلِ اسلام کے استیصال کو اکٹھے ہوئے۔ یہود کی ایک جماعت سلام بن حقیق نفری و حیی ابن اخطب نضری و کنانہ بن ربیع بن ابی حقیق نضری و ہوذہ بن قیس وائلی وابو عمار وائلی بنی نضیر اور بنی وائل قبیلے بہت سے لوگوں کو ساتھ لے کر خیبر سے چل کر قریش مکہ کے پاس آئے اور انہیں اپنی کمک و رفاقت کے قومی وعدے دے کر آنحضرت سے لڑنے کو کہا اور سخت ترغیب دی کہ ایک دفعہ مل کر مسلمانوں کا استیصال کر ہی ڈالیں ۔ قریش نے انہیں کہا۔ اے گروہ یہود تم لوگ پہلے اہل کتاب ہو اور تم ہمارے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے درمیان اختلاف کی وجہ کو جانتے ہو یہ تو بتاؤ کہ ہما راد رین اچھا ہے یا دین محمد ۔ انہوں نے ( یہود ، بنی اسرائیل ، اہلِ کتاب ، موحد ، بت پرستی کے دشمن ) کہا۔ تمہارا دین اس سے کہیں بہتر ہے۔ اور تم اس سے زیادہ حق پر ہو۔ انہیں کے حق میں یہ آیت اتری ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَبِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَ يَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا - (النساء : ۵۲) أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا اتْهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتٰبَ وَ لے تو نے نہ دیکھے وہ لوگ جن کو ملا ہے کچھ حصہ کتاب کا مانتے ہیں بتوں کو اور شیطانوں کو اور کہتے ہیں کافروں کو یہ زیادہ پاتے ہیں مسلمان سے راہ ۔