حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 405
حقائق الفرقان لد ٢٠ سُورَةُ السَّجْدَةِ ہے کہ حروف مقطعات کے معانی تلاش کرنا گناہ ہے اور یہ کسی کو معلوم نہیں ۔ مگر ایسا کہنا قرآن شریف کی بے ادبی کرنا ہے۔ قرآن شریف میں تدبر کرنا فرض ہے۔ صحابہ کرام میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان حروف کو اجزاء اسمائے الہی مانا ہے۔ میں نے بہت محنت کے مقدس گروہ کا اجماع کے ساتھ ایسی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے جس میں ان کا ذکر ۔ ان کا ذکر ہے۔ اور صحابہ کرام کے مقدس گر مجھے اسی پر دکھائی دیا ہے کہ حروف اجزائے اسماء الہی ہیں اور اسی واسطے سورتوں کے نام ہیں۔ آجکل کے جنٹلمین تو اس طریق پر اعتراض کر ہی نہیں سکتے ۔ کیونکہ ان میں عموما قابل عزت وہی ہے جس کے نام کے ساتھ کوئی بی۔ اے یا ایم ۔ اے یا ایم بی یا ایل ایل بی غرض دو یا تین حروف لگے ہوئے ہیں اور بعض بڑے معززین کے ناموں کے ساتھ اس قدر حروف ہوتے ہیں کہ ساری حروف تہجی وہاں ختم ہوتی نظر آتی ہے۔ ویدوں میں بھی سب سے پہلے اوم ہی آتا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ باوجود اس کو حروف مقطعات ماننے کے وہ لوگ اس کے معنے کے واسطے کوئی سند نہیں رکھتے ۔ ( بدر جلد نمبر ۲۳ مورخہ ۷ رستمبر ۱۹۰۵ صفحه (۳) الله - مقطعات قرآنی کے معنے اس زمانہ میں خوب کھلے ہیں ۔ انگریزی میں تو آجکل ایسے حروف بہت آتے ہیں۔ بعض لوگوں کے ساتھ تو تقریباً تمام حروف تہجی ہوتے ہیں۔ لا رَيْبَ فِيهِ - ریب کے معنے ہلاکت کے بھی ہیں جیسے نَتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ (طور : ۳۱) میں اور شک کے بھی ۔ قرآن شریف میں جو راہیں بتائی گئی ہیں۔ وہ نہ تو ہلاکت کی ہیں۔ نہ ان میں کسی قسم کا شک ہے۔ پس شک مت کرو۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۴ مورخه ۲۵ را گست ۱۹۱۰ صفحه ۲۰۲) أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَهُ ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أَتْهُم مِّنْ نَذِيرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ - ترجمہ ۔ کیا یہ کہتے ہیں کہ محمدؐ اس کو بنا لایا ہے۔ نہیں وہ سچ تیرے رب کی طرف سے ہے تا کہ تو ا ہم اس کے حق میں انتظار کرتے ہیں زمانہ کی گردشات اور ہلاکت کا ۔