حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 31
حقائق الفرقان ۳۱ سُورَةُ مَرْيَمَ ہے۔ میاں تم بڑے اچھے بڑے ایمان دار ۔ آیئے تشریف رکھئے ۔ باپ تمہارا بڑا ڈوم، بھڑوا ، کنجر ، بڑا حرام زادہ، سور، ڈاکو بد معاش تھا۔ تم بڑے اچھے آدمی ہو۔ اور ساتھ ساتھ خاطر داری کرتا جائے۔ تو کیا تم اس کے اخلاق کی تعریف کرو گے؟ تمام جہان کے ہادیوں کو جن کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زیادہ بیان کی جاتی ہے۔ اور میرا تو اعتقاد ہے کہ ان کو کوئی نہیں گن سکتا ۔ بدکار، گنہگار کہنے والا ، ایک شخص کی مزوّرانہ خاطر داری سے خوش اخلاق کہلا سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے برگزیدوں کی تو ہتک کرتے ہیں اور تم ان کی نرمی اور خوش اخلاقی کی تعریف کرو۔ حد درجے کی بے غیرتی ہے۔ یہاں تک تو انہوں نے کہہ دیا کہ شریعت کی کتابیں لعنت ہیں ۔ پرانی چادر ہیں ۔ ان کتابوں کو جو حضرت رب العزت سے خلقت کی ہدایت کے لئے آئیں۔ لعنت کہنا کسی خوش اخلاق کا کام ہو سکتا ہے؟ دیکھو گلتیوں کا خط کہ اس میں شریعت کو لعنت لکھا ہے۔ پھر خدا سے بھی نہیں ملے۔ کہتے ہیں اس کا بیٹا ہے ۔ (تَكَادُ السَّمواتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُ الْأَرْضُ وَ تَخِرُ کا الْجِبَالُ هَذَا أَنْ دَعَوُا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا) پھر اس بیٹے پر اس غضب کی توجہ کی ہے کہ اپنی دعائیں بھی بیٹے پر اس غضب کی توجہ کیا ہے کہ اپنی دعا اسی سے مانگتے ہیں ۔ بیٹے پر ایمان لانے کے بدوں کسی کو نجات نہیں ۔ خدا کسی کو علم نہیں بخش سکتا۔ یہ تو روح القدس کا کام ہے۔ نہ اللہ تعالیٰ کا۔ غرض اس درجہ بداخلاقی سے کام لینے والوں کو خوش خلق کہنا محض اس بناء پر کہ جب کوئی ان کے پاس گیا تو مشنری نے انجیل دے دی ۔ کسی کو روپیہ دے دیا۔ کسی کی دعوت کر دی۔ حد درجے کی بے غیرتی ہے۔ ان ظالموں نے ہمارے سب ہادیوں کو برا کہا۔ تمام کتب الہیہ کو برا کہا۔ جناب الہی کے اسماء صفات کو برا کہا۔ اسے سمیع الدعاء ، علم دینے والا نہ سمجھا۔ پھر اخلاق والے بنے ہیں تو بہ تو بہ ان کے کفارہ کا اٹو ہی سیدھا نہیں ہوتا جب تک یہ تمام جہان کے راست بازوں کو اور تمام انسانوں کو گنہگار بدکار اور لعنتی نہ کہہ لیں ۔ ان میں خوش اخلاقی کہاں سے آگئی ۔ الفضل جلد نمبر ۶ مورخہ ۲۳ جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۳)