حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 398 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 398

حقائق الفرقان ۳۹۸ سُوْرَةُ لُقُمْنَ انسان کے ماتحت ہیں۔ بالعکس انسان کے معبود بنائے گئے۔ غور کرو۔ ہندوستان کا ملک ایسا تھا کہ اس میں پتھر اور درخت پوجے جاتے تھے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ آریہ ورت بقول آریوں کے بھی ہندوستان ہو چکا تھا۔ حیرانی ہوتی ہے کہ لنگ کی مہما اور اس کی پوجا کا دور دورہ یہاں تھا۔ بھگ اور شکتی کی پرستش یہاں تھی ۔ وام مارگ، اگھور، کپال مت کے بانی اور گروہ یہاں ہی تھے۔ جین اور ناستکوں کا مبداء اور مولد یہی آریہ ورت تھا۔ آریوں کے یا ہندوؤں کے ہمسایہ یا پہلے استاد بلکہ بھائی بند قدیم ایرانی اگنی ہوتری تھے۔ جنہوں نے آسمانی بروج ، سیاروں، ستاروں اور خاص کر سورج کو معبود بنا رکھا تھا۔ بلکہ ان کے نہایت نا پاک اثر سے فارسی لٹریچر میں تمام سکھوں اور دکھوں کو آسمانی گردش کی طرف منسوب کیا گیا تھا۔ اسلام کے مدعی لائق منشیوں نے سورج کو حضرت نیر اعظم وغیرہ مقدس الفاظ سے یاد کیا۔ یہ لوگ یزدان اور اہرمن دو خداؤں خالق خیر اور خالق شر کے معتقد تھے۔ مغرب اور شمال بلکہ اندرونی حصہ عرب میں یہود اور عیسائی تھے۔ عیسائیوں کا یہ حال کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا از لی بیٹا بلکہ خدا یقین کرتے اور اس کو اصل ایمان جانتے تھے۔ اور ان کا اعتقاد تھا اور ہے کہ اللہ تعالٰى وَحْدَةً لَا شَرِيكَ لَهُ مِنْ كُلِّ الوجوہ ایک ہے اور تین ہے۔ پنا ہم بخدا !!! عیسائی کہتے ہیں۔ خدا باپ از لی ، خدا بیٹا از لی، خدا ४ روح القدس از لی تینوں خدا ہیں ۔ پھر خدا ایک ہے۔ اس وقت کیتھولک فرقہ کا عروج تھا اور عیسائیوں میں بعض ایسے بھی تھے جو صدیقہ مریم علیھا السلام کو قتم تثلیث جان کر ان کی تصویر پر گوٹے کناری کے کپڑے ڈالتے تھے۔ ہند میں بھی بعض لوگ بتوں کو گرمی اور سردی کالباس علیحدہ علیحدہ چڑھاتے ہیں۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹر ائز ڈایڈیشن صفحه ۸ تا ۱۰) ۲۳- وَمَنْ يُسْلِمُ وَجْهَهُ إِلَى اللهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرُوَةِ الوُثْقَى وَإِلَى اللَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ - ترجمہ ۔ اور جو اپنے کو فدا کر دے اللہ کے لئے اور وہ حسن ہو تو اس نے بے شک مضبوط رسی کو پکڑ لیا