حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 390
حقائق الفرقان ۳۹۰ انسان کو معبود کہنا یا معبود بنانا کیسا سخت جرم اور بھاری ظلم ہے۔ سُوْرَةُ لُقُمْنَ ( بدر جلد نمبر ۲۱ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۰۵ صفحه ۳، ۴) تین بار مجھ سے یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ شرک کیا چیز ہے۔ اس سوال سے مجھے رنج بھی ہوا۔ تعجب بھی افسوس بھی ۔ قرآن کریم سارا اسی کے رو سے بھرا ہوا ہے۔ پھر شرک کے سب سے بڑے دشمن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے شرک کا پتہ لگ سکتا ہے ۔ شرک وہ بری چیز ہے کہ اس کی نسبت خدا نے فرمادیا ہے۔ اِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَ يَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ - (النساء : ۴۹) پھر بھی مسلمان اس کے معنے نہ سمجھیں تو افسوس ہے۔ سب سے پہلا کلام جو انسان کے کان میں بوقت پیدائش و بلوغ ڈالا جاتا ہے وہ شرک کی تردید میں لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله ہے۔ یہ ایک بحث ہے کہ کان بہتر ہیں یا آنکھیں ۔مولود کے کان میں اذان کہنے کی سنت سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ اگر یہ لغو عل ہوتا تو کبھی رسول کی سنت مؤکدہ نہ جو بیماری ہے ، اس کے عجائبات سے بھی اس کی حکمتیں معلوم ہو سکتی ہیں۔ بنتا۔ یقظه نومی جو بیما غرض پہلا حکم کانوں کیلئے نازل ہوا اور انبیاء بھی اسی لا إِلهَ إِلَّا اللہ کی اشاعت کیلئے آئے اور خدا کی آخری کتاب نے بھی اسی کلمہ کی اشاعت کی اور جس کتاب سے میں نے دینی امور کی طرف خصوصیت سے توجہ کی۔ اس میں بھی اسی پر زیادہ تر بحث ہے۔ چونکہ بعض لوگ حکیموں کی بات کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اور ان کے کلمہ کا ان کی طبیعت پر خاص اثر ہوتا ہے۔ اس لئے یہاں ایک حکیم کی نصیحت کو بیان کیا ہے۔ اور یہ بھی مسلّم ہے کہ آدمی اپنی اولاد کو وہی بات بتاتا ہے جو بہت مفید ہو اور مضر نہ ہو۔ شرک عربی زبان میں کہتے ہیں۔ سانجھ کرنے کو۔ کسی سے کسی کے ساتھ ملانے کو۔ تو مطلب یہ اے بے شک اللہ یہ قصور نہیں معاف کرتا کہ کسی کو اس کے برابر سمجھا جائے ، اس کا شریک کیا جائے اور معاف کر دیتا ہے اس کے سوائے نیچے کے گناہ (سب قصور )