حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 381
حقائق الفرقان ۳۸۱ سُورَةُ الرُّومِ رکھتا ہے۔ پس وہ مخلوق کو دوبارہ پیدا کرنے کا پورا علم رکھتا ہے اور اس پر قادر ہے ۔ یہ بھی سمجھایا کہ قوت کے بعد ضعف کم علمی یا عدم قدرت کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ حکمت سے ایسا کام کرتا ہے۔ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ - مفسرین لکھتے ہیں کہ عذاب و ثواب کے تین مراتب ہیں۔ ایک مرتبہ قبر ۔ عالم برزخ و دوم جنت و دوزخ میں پہونچنا ۔ سوم تمام انعامات و عذاب الہی کا کامل ظہور ۔ چونکہ دوسرا مرتبہ پہلے سے اعلیٰ ہے اس لئے شرک بوجہ جہالت پہلی حالت میں رہائش کو دوسری کے مقابل میں گھڑی کے برابر سمجھیں گے۔ یعنی جب آخری حالت میں تکلیف زیادہ ہوگی ۔ تو وہ پہلی اس کے مقابل میں پہنچ سمجھیں گے مگر مومن کا یہ حال نہیں ۔ غرض مشرک تو کہیں گے کہ بس یہ دن سخت ہے اس سے پہلے کا زمانہ تو قلیل ہی تھا مگر مومن کہیں گے یہ یوم البعث ہے جس کے تم منکر تھے اور اسی انکار کی وجہ سے تم پر سخت ہے۔ مگر کتاب اللہ میں یوم البعث تک ٹھہرنے کے معنے نہیں بنتے ۔ اس لئے مفسرین کو گھبراہٹ ہوئی ہے۔ میں کہتا ہوں ۔ قرآن شریف نے اس کی خود ہی تفسیر کر دی ہے۔ ایک مقام پر فرماتا ہے۔ لَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ آجَلَة (البقرة:۲۳۶) یہاں کتاب سے مراد مقرر شدہ زمانہ ہے۔ پس اس آیت کے یہ معنے ہوئے کہ تم ٹھہرے رہے اللہ کے مقرر کردہ زمانہ میں جس کی آخری حد یوم البعث تھی ۔ یعنی وہ زمانہ جو تمہارے سزا کے لئے مقرر کیا گیا تھا اس کے گذرنے تک ٹھہرے رہے ہو۔ (۲) ساعت ۔ مصیبت و تباہی کے وقت کو بھی کہتے ہیں ۔ پس معنے یہ ہوئے جس دن کہ وہ تباہی کا وقت آئے گا۔ مجرم قسمیں کھائیں گے اور کہیں گے کہ ہمیں کس قیامت کے قیام کی خبر دیتے ہو۔ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةِ (الروم : ۵۶) قیامت تو ہمارے سر پر پہلے ہی آئی ہوئی ہے اور اب تک ہم قیامت کے بغیر نہیں رہے اس پر مومن کہیں گے کہ تم اللہ کی مقرر شدہ میعاد تک ٹھہرے رہے ہو اور یوم البعث تو اب شروع ہوتا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۴ مورخه ۲۵ راگست ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۹۹ ۲۰۰۰) لے نکاح کی گرہ مضبوط نہ کر بیٹھنا جب تک قرآنی میعاد پوری نہ ہو جائے۔ ہے وہ دنیا میں نہیں رہے بغیر ساعت کے۔