حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 376 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 376

حقائق الفرقان ۳۷۶ سُورَةُ الرُّومِ ایدی النَّاسِ ۔ یہ ایک محاورہ عرب ہے، اس لئے یہ دھو کہ نہ ہو کہ بعض بدیاں عقا ئد دل سے تعلق رکھتی ہیں ۔ ہاتھ کا خصوصیت سے کیوں ذکر ہے۔ ید طاقت کو کہتے ہیں ۔ ہاتھ کو بھی ید اس لئے کہتے ہیں کہ اکثر طاقتوں کا اظہار اسی سے ہوتا ہے۔ پس بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِی النَّاسِ کے معنے ہوئے ۔ لوگوں نے اپنی قوتوں کو برا استعمال کیا۔ لِيُذِيقَهُم - یہ ظہور فساد کا نتیجہ بتایا ہے۔ فساد کے معنے بگاڑ خواہ صرف اپنے لئے ہو یا اس کا اثر دوسرے پر بھی پڑے۔ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ۔ اس میں یہ بھی سمجھایا ہے کہ دارالجزاء تو اور ہے اور یہاں اعمال کا کچھ کچھ پھل دکھایا جاتا ہے۔ اس لئے کہ وہ بدیوں سے باز آئیں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخه ۱۸ اگست ۱۹۱۰ صفحه ۱۹۸) ۴۳ - قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلُ كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُشْرِكِينَ - ترجمہ۔ کہہ دو ملک میں سیر کرو ( تاکہ ترقی کر جاؤ) پھر دیکھو کیا انجام ہوا ان کا جو پہلے ہو گزرے اور ان میں اکثر مشرک ہی تھے ۔ تفسیر - قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ۔ یہ سمجھایا کہ اپنے نفسوں پر غور نہیں کرتے تو دوسروں کے حالات سے ہی عبرت پکڑو اور سوچو کہ بعض اگلی قو میں کیوں تنزل میں آئیں۔ ہمارے لئے عبرت پکڑنے کے واسطے بہت صاف راہ ہے۔ کیونکہ تمام ہلاکت و تباہی کی راہوں کے نمونے موجود ہیں ۔اسی واسطے اس آفت کا نام امت مرحومہ رکھا گیا۔ كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُشْرِكِينَ - یہ ان تباہ شدہ قوموں کے مختلف اسباب میں سے ایک جہت جامع 66 بتائی ہے اور شرک ہے۔ دنیاں میں جس قدر بدیاں ہیں ان سب کی جڑ شرک ہے۔ مثال کے طور پر سنو ایک شخص چوری کرتا ہے۔ اب اگر یہ شخص خدا کو صفت رازقیت میں واحد باور کرتا تو کبھی چوری نہ کرتا پھر یہی شخص خدا