حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 374 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 374

حقائق الفرقان ۳۷۴ سُورَةُ الرُّومِ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ - پہاڑوں، ملکوں، پانی کے کناروں، جزیروں میں لوگوں کی بدعملیاں بڑھ گئی ہیں۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخه ۱۸ راگست ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۹۸) ایک وہ وقت ہوتا ہے کہ جب دنیا میں اندھیر ہوتا ہے اور ہر قسم کی غلطیاں اور غلط کاریاں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ خدا کی ذات پر شکوک ، اسماء الہیہ میں شبہات ، افعال اللہ سے بے اعتنائی اور مسابقت فی الخیرات میں غفلت پھیل جاتی ہے۔ اور ساری دنیا پر غفلت کی تاریکی چھا جاتی ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف ا رف سے اس کا کوئی برگزیدہ بندہ اہل دنیا کو خواب غفلت سے ، اب غفلت سے بیدار کرنے اور اپنے مولیٰ کی عظمت و جبروت دکھانے ۔ اسماء الہیہ وافعال اللہ سے آگاہی سے آگاہی بخشنے کے واسطے آتا ہے۔ تو ایک کمزور انسان تو ساری دنیا کو دیکھتا ہے کہ کس رنگ میں رنگین اور کسی دھن میں لگی ہوئی ہے۔ اور اس مامور کی طرف دیکھتا ہے کہ وہ سب سے الگ اور سب کے خلاف کہتا ہے۔ کل دنیا کے چال چلن پر اعتراض کرتا ہے۔ نہ کسی کے عقائد کی پروا کرتا ہے نہ اعمال کا لحاظ ۔ صاف کہتا ہے کہ تم بے ایمان ہو اور نہ صرف تم بلکہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ سارے دریاؤں جنگلوں ، بیابانوں ، پہاڑوں اور سمندروں اور جزائر ۔ غرض ہر حصہ دنیا پر فساد مچا ہوا ہے۔ تمہارے عقائد صحیح نہیں ۔ اعمال درست نہیں ۔ علم بودے ہیں ۔ اعمال ناپسند ہیں ۔ قومی اللہ تعالیٰ سے دور ہو کر کمزور ہو چکے ہیں۔ کیوں؟ بما كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ تمہاری اپنی ہی کرتوتوں سے۔ پھر کہتا ہے۔ دیکھو میں ایک ہی شخص ہوں۔ اور اس لئے آیا ہوں کہ لِيَذُوقُ النَّاسَ وَبَالَ أَمْرِهِمْ ۔ لوگوں کو ان کی بدکرتوتوں کا مزہ چکھا دیا جاوے۔ بہت سی مخلوق اس وقت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے عدم اور وجود کو برابر سمجھتی ہے اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ بالکل غفلت ہی میں ہوتے ہیں۔ انہیں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے؟ اور کچھ مقابلہ وانکار پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جبروت دکھانا چاہتا ہے۔ وہ ان لوگوں کے مقابلہ میں جو مال و دولت کنبہ اور دوستوں کے لحاظ سے بہت ہی کمزور اور ضعیف ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے رؤسا اور اہل تد بیر لوگوں کے مقابلہ میں ان کی کچھ ہستی ہی نہیں ہوتی ۔ یہ اس مامور کے ساتھ ہو لیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یعنی ضعفاء سب سے پہلے ماننے والے کیوں ہوتے ہیں؟ اس لئے کہ اگر وہ اہل دول مان لیں تو ممکن ہے خود ہی کہہ دیں