حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 367 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 367

حقائق الفرقان ۳۶۷ سُورَةُ الرُّومِ ہیں سمجھنے والوں کے لئے ۔ اور اسی کے نشانیوں میں سے ہے تمہارا سونا رات کے وقت اور دن کو اور طلب کرنا تمہارا اس کے مال سے ۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان کے لئے جو سنتے ہیں ۔ تفسیر - مِنْ ايْته أَنْ خَلَقَكُم مِّنْ تُرَابٍ - بڑ ۔ بڑے بڑے مدبر اپنے عندیہ میں تدابیر کے ہر پہلو پر لحاظ کر کے مناسب وقت اور عین موافق لوازم کو مہیا کرتے ہیں۔ پھر نتائج سے محروم ہو کر اپنی کم علمی پر افسوس ۔ مگر قانون قدرت کے مستحکم انتظام کو دیکھ کر ہمہ قدرت ذات پاک کالا بداقرار کرتے ہیں۔ سلیم الفطرت دانا جب تمام اپنے ارد گرد کی مخلوق کو بے نقص ، کمال ترتیب ، اعلیٰ درجہ کی عمدگی پر پاتے ہیں۔ ضرور بے تابی سے ایک علیم و خبیر قادر کے وجود پر گواہی دیتے ہیں۔ فطرت کی اس زبردست دلیل کو غور کرو ۔ قرآن مجید کیسے الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔ وَ مِنْ أَيْتِهَ أَنْ خَلَقَكُم مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ (الروم: ۲۱) ۔ ان کلمات میں قرآن ان آیات صانع عالم کی طرف توجہ دلاتا ہے جو انسان کی ذات میں موجود ہیں۔ ان کلمات طیبات سے پہلے اور اس دلیل سے اول اللہ تعالیٰ نے اپنی قدوسیت ہر ایک نقص سے پاک ہر ایک صفت کا ملہ کے ساتھ متصف ہونے کا اظہار اور عبادت کی تاکید کی ہے اور کہا ہے۔ فَسُبْحْنَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ - وَ لَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَوتِ وَ الْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَ حِينَ تُظْهِرُونَ ( الروم : ۱۸ ۱۹ ) ۔ اس دعویٰ کا مدار وجود صانع پر تھا۔ اس لئے وجود صانع کی دلیل بیان فرمائی اور دلیل بھی ایسی دی جس سے یہ مطلب بھی ثابت ہو گیا۔ بیان دلیل یہ ہے کہ آدمی کو دو باتیں حاصل ہو رہی ہیں۔ اول شخص انسانی کا وجود اور اسکی بقا۔ دوم بقائے نوع جو مرد عورت کے ملنے سے حاصل ہوتا ہے۔ پہلے انعام کی نسبت فرمایا کہ انسان اپنی اصل ے اور اس کے نشانوں سے ہے کہ تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر تم اچانک چلتے پھرتے آدمی ہو گئے۔ ے اللہ کی قدوسیت بیان کرو۔ جب تم شام کرتے اور جب تم صبح کرتے ہوا اور اسی کیلئے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور تیسرے پہر اور جب تم ظہر کرتے ہو۔