حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 357 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 357

حقائق الفرقان ۳۵۷ نہیں جو ہم نے ان پر اتاری۔ یہی حضرت عمرؓ نے کہا۔ سُورَةُ الْعَنْكَبُوتِ الفضل جلد نمبرے مورخہ ۳۰ جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۵) میں نے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں ۔ اور خوب سمجھ کر پڑھی ہیں۔ مجھے قرآن کے برابر پیاری کوئی کتاب نہیں ملی۔ اس سے بڑھ کر کوئی کتاب پسند نہیں ہے۔ قرآن کافی کتاب ہے۔ او کم يَكْفِهِمُ اَنَّا اَنْزَلْنَا ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور آتے ہیں اور آتے رہیں گے۔ میں نے اپنے زمانہ میں مرزاغلام احمد صاحب کو دیکھا ہے۔ سچا پایا اور بہت ہی راست باز تھا ۔ جو بات اس کے دل میں نہیں ہوتی تھی وہ نہیں منواتا تھا۔ اس نے ہی ہم کو یہی حکم دیا کہ قرآن پڑھو اور اس پر عمل کرو۔ الفضل جلد ا نمبر ۲۲ مورخه ۱۲ نومبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۱۵) ۵۳، ۵۴ - قُلْ كَفَى بِاللهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمُ شَهِيدًا يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَواتِ وَ الْأَرْضِ وَ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوا بِاللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَسِرُونَ وَ يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَوْ لَا أَجَلٌ مُّسَمًّى لَجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَ لَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ - ترجمہ ۔ تم کہہ دو اللہ بس ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ ۔ وہ جانتا ہے جو کچھ آسمان و زمین میں ہے اور جو لوگ الباطل کو مانتے ہیں اور اللہ کے منکر ہیں تو یہی لوگ نقصان پانے والے ہیں۔ تجھ سے یہ عذاب کی جلدی مچاتے ہیں اور اگر ایک وقت مقرر نہ ہوتا تو ضروران پر آنازل ہوتا عذاب اور وہ ضرور ضرور دفعہ ان پر آ ہی پڑے گا اور وہ جانتے بھی نہ ہوں گے۔ تفسیر - الْبَاطِل ۔ جس کی کچھ حقیقت نہ ہو۔ اجَلٌ مُّسَمًّى - کتب سابقہ ۔ (یسعیاہ نبی باب ۳۰) میں یہ بات مقرر نہ ہوتی کہ عذاب اس وقت آئے گا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ سے چلے جائیں گے۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخه ۱۸ اگست ۱۹۱۰ صفحه ۱۹۷ )