حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 343
حقائق الفرقان ۳۴۳ سُورَةُ الْعَنْكَبُوتِ کیا لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ وہ صرف اتنا ہی کہنے پر چھوڑ دئے جاویں گے کہ وہ ایمان لائے اور وہ آزمائے نہ جاویں۔ ابتلاؤں اور آزمائشوں کا آنا ضروری ہے۔ بڑے بڑے زلزلے اور مصائب کے بادل آتے ہیں۔ مگر یاد رکھو ان کی غرض تباہ کرنا نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کا منشاء اس سے استقامت اور سکینت کا عطا تباہ کرنا ہوتا ہے اور بڑے بڑے فضل اور انعام ہوتے ہیں ۔ ہاں یہ سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ جو لوگ کچے غیر مستقل مزاج ، کم ہمت اور منافق طبع ہوتے ہیں وہ الگ ہو جاتے ہیں صرف مخلص، وفادار بلند خیال اور سچے مومن رہ جاتے ہیں۔ جو ان ابتلاؤں کے جنگلوں میں بھی امتحان اور بلاء کی خاردار جھاڑیوں پر دوڑتے چلے جاتے ہیں۔ وہ تکالیف اور مصائب ان کے ارادوں اور ہمتوں پر کوئی برا اثر نہیں ڈالتے ۔ ان کو پست نہیں کرتیں بلکہ اور بھی تیز کر دیتی ہیں ۔ وہ پہلے سے زیادہ تیز چلتے اور اس راہ میں شوق سے دوڑتے ہیں۔ نتیجہ کیا ہوتا ہے وہ بلائیں وہ تکالیف وہ مصائب وہ شدائد خدا تعالیٰ کے عظیم الشان فضل اور کرم اور رحمت کی صورت میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ اور وہ کامیابی کے اعلیٰ معراج پر پہونچ جاتے ہیں۔ اگر ابتلاؤں کا تختہ مشق نہ ہو تو پھر کسی کامیابی کی کیا امید ہو۔ دنیا میں بھی دیکھ لو ایک ڈگری حاصل کرنے کے واسطے اے۔ بی سی شروع کرنے کے زمانہ سے لے کر ایم۔اے کے امتحان تک کس قدر امتحانوں کے نیچے آنا پڑتا ہے۔ کس قدر رو پیر اس کے واسطے خرچ کرتا ہے۔ اور کیا کیا مشکلات اور مشقتیں برداشت کرتا ہے۔ باوجود اس کے بھی یہ یقینی امر نہیں ہے کہ ایم ۔ اے پاس کر لینے کے بعد کوئی کامیاب زندگی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ بسا اوقات دیکھا جاتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ تعلیم میں طالب علم کی صحت خطر ناک حالت میں پہونچ جاتی ہے اور ڈپلوما اور پیام موت ایک ہی وقت آ پہونچا ہے۔ اس محنت اور مشقت اور ان امتحانوں کی تیاری ، روپیہ کے صرف سے اس نے کیا فائدہ اٹھایا یا والدین نے کیا ؟ مگر اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ کے لئے ابتلاؤں اور امتحانوں میں پڑنے والا ڑنے والا کبھی نہیں : ہوتا کہ وہ کامیاب اترا ہو اور نامراد رہا ہو ۔ ان لوگوں کی لائف پر نظر کرو اور ان کے حالات پڑھو جن پر خدا تعالیٰ کے مخلص بندے ہونے کی وجہ سے کوئی ابتلاء آیا