حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 339 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 339

حقائق الفرقان ۳۳۹ سُوْرَةُ الْقَصَصِ اسلامی ممالک میں نہیں ملتا مگر امام حسین سے تعلق رکھنے والے ان کی تعظیم کرنے والے موجود ہیں۔ تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ ۔ یہ پچھلا گھر ہزار ہا برس کے بعد ۔ یا مرکر۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۴۲ مورخه ۱۱ اگست ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۹۴) لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ - جب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے تو کسی نے حضرت ابوبکر کے والد کو خبر پہونچائی کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے ۔ اس نے کہا کہ اسلام کی کیا حالت ہے۔ اس نے بتایا ایک شخص اس کے قائم مقام ہوا۔ کہا کہ مقام محمد پر بیٹھنے والا کون شخص ہو سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ ابو بکر ۔ پوچھا کون ابوبکر ۔ کہا ابن ابی قحافہ ۔ کہا کون ابی قحافہ؟ اس نے بڑے تعجب سے پوچھا کہ بنو ہاشم کہاں گئے ۔ اس نے کہا سب نے اس کی بیعت کر لی ۔ پوچھا بنوامیہ؟ کہا وہ بھی تابع ہو گئے ۔ تب ابو قحافہ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور کہا کہ اسلام حق ہے اور یہ سب اسی اللہ کے سامان ہیں ۔ حضرت عمر حج سے آتے ہوئے ایک درخت کے پاس کھڑے ہو گئے ۔ حذیفہ جو بے تکلف تھا اس نے جرات کی اور وجہ پوچھی ۔ آپ نے فرمایا کہ ایک وقت تھا کہ جب میں اپنے ایک اونٹ کو چراتا تھا اور اس درخت کے نیچے میرے والد نے مجھے بہت زجر و تو بیچ کی تھی اللہ اب یہ وقت ہے کہ اونٹ تو کیا۔ کئی آدمی میرے آنکھ کے اشارے پر جان دینے کو تیار ہیں۔ یہ اسی لئے کہ ہم نے خدا کے مرسل کو مان لیا۔ عبداللہ بن عمرؓ گھر کی لپائی کرا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آ گئے ۔ پوچھا یہ کیا کرتے ہو۔ عرض کیا۔ آئی مِنَ الْمَطَرِ حضور ! بارش سے محفوظ رہنے کے واسطے ۔ فرمایا۔ بات قریب ہے۔ ملاں تو اس کے یہ معنے کرتا ہے۔ قیامت نزدیک ہے۔ مگر میں تو اس کے یہی معنے کروں گا کہ وہ وقت نزدیک ہے جب تم بادشاہ ہو جاؤ گے اور خود لپائی کرنے کی ضرورت نہ رہے گی۔ چنانچہ آپ عراق بھیجے گئے ۔ پھر قیصر و کسری کی حویلیوں کے مالک ہوئے ۔ ایک اور صحابی کا ذکر ہے کہ چھتر بنارہے تھے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی فرمایا کہ