حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 24
حقائق الفرقان خَلْفٌ خراب اولاد۔ الد سُورَةُ مَرْيَمَ غيا ۔ نقصان ۔ دکھ۔ دوزخ کی وادی ۔ ( تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ۔ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۶۶) خَلْفٌ برے معنوں میں آتا ہے اور خلف کا اطلاق اچھے پر ہوتا ہے۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۳ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۱۱ ء صفحه (۳) ٦٢ - جَنَّتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدَ الرَّحْمَنُ عِبَادَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَاتِيًّا - ترجمہ ۔ وہ ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کا وعدہ رحمن نے کر لیا ہے اپنے بندوں سے بے دیکھے یا تنہائی میں بھی جو اس کے بندے بنے بے شک اس کا وعدہ تو ضرور ہوکر رہے گا۔ تفسیر - ماتيا - آنے والا ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ مئی ۱۹۱۰ صفحه ۱۶۵) ۶۴ - تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا - ترجمہ۔ یہ وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے اس شخص کو وارث بنائیں گے جو بڑا متقی ہوگا۔ تفسیر - الْجَنَّةُ ۔ اس میں ایک پیشگوئی ہے کہ ارضِ مقدس کے مالک مسلمان ہوں گے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۵) ۶۵ ۶۶ - وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا - رَبُّ السَّمَوتِ وَ الْأَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدُهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَبِيًّا - ترجمہ ۔ ہم (فرشتے) اترتے نہیں مگر تیرے رب کے حکم سے۔ اسی کو معلوم ہے جو آگے ہونے والا ہے اور جو پیچھے ہو چکا اور جواب ہے اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ۔ وہ رب ہے آسمان اور زمین کا اور جوان دونوں کے درمیان ہے تو اسی کی عبادت کر اور نیکی پر جما ر ہو اور بدی سے بچتے رہو اس کی فرمانبرداری کے لئے ۔ بھلا تیری عقل وسمجھ میں اللہ کے جیسا کوئی اور بھی ہے۔ تفسیر ۔ نَتَنَزَّلُ ۔ اس کا فاعل ا۔ مومن ہیں بہشت میں داخل ہونے کے وقت یا۔ ۲۔ جبرائیل یا مراد مسلمانوں کا نزول ہے اس ملک میں ۔