حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 298
حقائق الفرقان ۲۹۸ سُوْرَةُ النَّمْلِ ۲۹- اذْهَبُ بِكِتَبِى هُذَا فَالْقِهُ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرُ مَاذَا رو وور يرجعون - ترجمہ تو میرا یہ خط لے جا اور اس کو رکھ دینا ان کے پاس پھر ان سے ذرہ ہٹ کر کھڑے رہنا دیکھنا وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔ تفسیر ۔ میرا یہ خط لے جا۔ اور ان کے آگے رکھ دے۔ پھر الگ ہو جاؤ ۔ انبیاء علیہم السلام ہمیشہ حفظ مراتب کا لحاظ کیا کرتے ۔ اللہ تعالیٰ نے بھی حضرت موسیٰ کو حکم دیا ۔ فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيْنَا (طه: ۴۵) فرعون کے ساتھ نرم نرم بات کرو ۔ اَمَرَ نَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ أَنْ نُنَزِّلَ النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ ہر ایک آدمی کے مرتبہ کا لحاظ رکھنا چاہیے ۔ چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بھی اس کو ادب کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ۔ یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے ه گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی کے ( بدر جلد نمبر ۲۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ ء صفحه (۶) ۳۰ تا ۳۲- قَالَتْ يَأَيُّهَا الْمَلَوُا إِنِّي أُلْقِيَ إِلَى كِتَبُ كَرِيمٌ - إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَنَ وَ إِنَّهُ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَاتُونِي مُسْلِمِينَ - ترجمہ ۔ بلقیس بولی اے رعب دار در بار والو! میرے پاس پہنچایا گیا ہے ایک بزرگ خط ( جس کی عبارت یہ ہے ) ۔ البتہ یہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ شروع ہے اس عظیم الشان اللہ کے نام سے جو بے مانگے سب کچھ دیتا ہے اور مانگنے والے کو ضائع نہیں کرتا۔ کہ تم میرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو اور تم میرے پاس مسلمان ہو کر چلے آؤ۔ نے تفسير - إنهُ مِنْ سُلَيْنَ ۔ یہ قرآن شریف میں خطوط کا نمونہ ہے۔ بڑے بڑے القاب و آداب لکھنے والے عبرت پکڑیں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۹ و ۴۰ مورخه ۲۱، ۲۸ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۹) اے رسول اللہ نے ہمیں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم مہمانوں کی ان کے مقامو مر تبہ کے مطابق ان کی تعظیم کریں ۔ اگر تم مراتب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے تو تم زندیق ہو۔