حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 295
حقائق الفرقان آگئی اور اس شخص کی نسبت سوال کیا۔ ۲۹۵ سُورَةُ النَّمْلِ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۹ و ۴۰ مورخه ۲۸،۲۱ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۹) حضرت سلیمان نے سواروں کا یا چڑیا خانہ کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ ہد ہد غائب ہے۔ آدمیوں کے نام بھی جانوروں کے نام سے ہوتے ہیں۔ جیسے قوموں کے چیتے ، شیر، باز، سمندر، سورداس وغیرہ۔ کہا۔ میں اس کو عذاب سخت کروں گا۔ یا ذبح کروں گا ۔ ہاں اگر کوئی وجہ معقول اپنی غیر حاضری کی بیان کرے۔ کسی شخص نے اعتراض کیا کہ ذبح سے معلوم ہوتا ہے کہ ہد ہد انسان نہیں تھا بلکہ پرندہ ہی تھا۔ کیونکہ ذبح کا لفظ جانوروں پر ہی بولا جاتا ہے۔ انسان کیلئے تو قتل کا لفظ مستعمل ہے۔ یہ اعتراض کسی مولوی صاحب کا تھا تو ان کو ہمارے ایک دوست امیر الدین صاحب کمبل باف گوجرات نے جو ہماری جماعت کا ہے جواب دیا کہ پہلے پارہ میں ہے يُذَبِّحُونَ ابْنَاءَكُمْ (البقرۃ:۵۰) آیا ہے ۔ تو مولوی صاحب نے کہا۔ بنی اسرائیل کی اولا دانسان نہ تھی۔ سارے جانور ہی تھے۔ فرمایا۔) ( بدر جلد نمبر ۲۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ء صفحه (۶) ایک آریہ کے اس اعتراض پر کہ حضرت سلیمان پرندوں کی بولی کیونکر سمجھتے تھے جواب میں کیا تم مانتے ہو کہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ جانوروں کی باتیں سنتا اور سمجھتا ہے اگر سنتا ہے اور سمجھتا ہے کیونکہ وہ گیا نے ( علیم ) چت سروپ ہے تو پھر اس کے مقرب اور اس میں ئے ہونے والے پاک بندے ان جانوروں کی باتیں کیوں نہیں سن سکتے ۔ ہم نے پر تیکش ( محسوس ) تجربہ کیا ہے کہ ایک دنیا کے جاہ وحشم والے کے ساتھ جس قدر کسی کا تعلق بڑھتا جاتا ہے اس قدر جاہ وحشم والے کی طاقتیں اس مقترب پر اپنا عکس ( پرتے بمب ) ڈالتی ہیں اور وہ مقرب بھی صاحب گونہ جاہ وحشم ہو جاتا ہے۔ تو سرب شکتیمان ( القادر ) عالم کل ۔ ہمہ طاقت جناب النبی کے قرب سے مقرب کو ان طاقتوں سے ذرا اثر نہ ہو۔ یہ لے تمہارے بیٹوں کو وہ ذبح کر ڈالتے تھے۔