حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 291
حقائق الفرقان ۲۹۱ سُوْرَةُ النَّمْلِ تفسیر اور جمع کیا گیا۔ سلیمان کا لشکر جن اور انس اور طیر سے اور وہ الگ الگ بنائے گئے ۔ عیسوی انیسویں صدی یا تیرہویں صدی ہجری نے ہر قوم و مذہب پر اعتراض تو پیدا کئے ۔ مگر بجائے جواب دینے کے شبہات پر شبہات اس قدر بڑھ گئے کہ بعض لوگ یا علی العموم عملاً مذہب سے دست بردار ہو گئے۔ بعض مذہب کو ہنسی میں بھی اڑانے لگے۔ دوسرے اعتراضوں کے ساتھ لفظ جن پر بھی اعتراض ہیں۔ بعض نے لفظ جن کی ایسی توجیہ کی۔ جس کا ثبوت عربی زبان یا حضرات صحابہ سے نہیں دیا گیا۔ بعض نے کہا کہ مخاطب لوگ چونکہ جن کو ایک مخلوق مانتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے مسلمات کے لحاظ سے اس لفظ کو استعمال کیا ۔ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ قرآن مجید میں جو کچھ بیان ہوتا ہے۔ بلحاظ واقعات حقہ کے ہوتا ہے۔ جن کے معنے جو چیز عام نظروں میں نہ آوے مثلاً آجکل طاعون کا کیڑا جو عام نظروں میں تو نہیں آسکتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے منکروں کے لئے حجت قائم کرنے کو اس کیڑے کو پیدا کر دیا۔ اور وہ دیکھے گئے ۔ غرض شریر، گندہ، مشرک، بڑے کا فر کو بھی جن کہا ہے۔ اس سے بدتر وہ ارواح خبیثہ ہیں جن سے بدی کے تحریک ہوتے ہیں ۔ حضرت سلیمان کے وقت شریر بڑے سردار اور کچھ پہاڑی لوگ بھی تھے۔ ان کو جن کہا گیا ہے۔ طیر بہادر سوار ۔ عرب میں بہادروں اور عمدہ فوجوں کی تعریف یہ بھی کی جاتی ہے کہ ان کے ساتھ پرندے رہتے ہیں۔ یعنی یہ دشمن کو ہلاک کرتے ہیں۔ اور پھر پرندے ان کا گوشت نوچ نوچ کر کھاتے ہیں ۔ اور ان کے دفن کا مجاز نہیں ہوتا۔ ( بدر جلد نمبر ۱۹ مورخه ۱۰ را گست ۱۹۰۵ ء صفحه (۳) الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ - امیر لوگ ۔ غریب لوگ فاتح قوموں کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ پرندے ان کے ساتھ اڑتے ہیں تا کہ دشمن کی لاشیں کھائیں۔ کی تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه متمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۷۰)