حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 20
حقائق الفرقان ۲۰ سُورَةُ مَرْيَمَ - ۵۲- وَاذْكُرُ فِي الْكِتَبِ مُوسَى إِنَّهُ كَانَ مُخْلَصًا وَ كَانَ رَسُولًا نَبِيًّا ترجمہ ۔ اور کتاب میں موسیٰ کا بیان کر ( یعنی قرآن میں ) کہ وہ خاص بندہ تھا اور بھیجا ہوا۔ پیشگوئی کرنے والا تفسیر۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اولاد ابراہیم میں حضرت موسیٰ سے خصوصیت کے ساتھ مشابہت ہے ۔ اس لئے ان کا ذکر خاص غور کے قابل ہے ۔ قرآن مجید میں کئی جگہ اس مشابہت کا ذکر فر ما یا ۔ مثلاً رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (المزمل: ١٦) شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَاءِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَأَمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ (الاحقاف (11) أَنْ يُؤْتَى أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُوتِيتُمُ (ال عمران : ۷۴)۔ اس مشابہت کا ذکر اس لئے فرمایا تا عیسائی و یہودی اپنے مانے ہوئے رسول حضرت موسیٰ کے معیار صداقت پر اس نبی کو پرکھ لیں ۔ وَاذْكُرُ ۔ اس کتاب (قرآن شریف ) میں حضرت موسیٰ کا ذکر لوگوں کو سناؤ۔ كَانَ مُخلَصا ۔ حضرت نبی کریم کے اخلاص کا ذکر بھی ایک جگہ فرمایا ہے دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ گا۔ ضرت بیا بریم قَوْسَيْنِ أَوْ ادنی (النجم: ۹، ۱۰) ۔ عرب میں ایک رسم ہے۔ جو دو دوست بننا چاہتے ہیں تو عمائد کو جمع کر کے اپنی اپنی کمانیں ملاتے اور اس میں ایک تیر رکھتے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا۔ جو تمہارا دوست ۔ ہمارا دوست ۔ جو تمہا را دشمن وہ ہمارا دشمن ۔ جناب الہی سے بھی تعلقات اخلاص ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایسے مخلصین کے لئے خدا تعالیٰ ے رسول بھیجا ہے۔ جو تم پر نگران ہے جیسا کہ فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔ ۲۔ بنی اسرائیل کا ایک حکمران شہادت دے چکا اپنے مشیل کی تو وہ ایمان لا چکا اور تم نے اپنے کو بڑا سمجھا اور دوسرے کو حقیر ۔ الا تم سے کسی کو وہ ملے جو تمہیں ملا۔ ہے اس نے قرب الہی چاہا ( پھر کیا ہوا) اللہ اُس کی طرف جھکا۔ پھر وہ دو کمانوں کے ملنے سے بھی زیادہ تر قریب ہو گیا۔