حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 280 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 280

حقائق الفرقان ۲۸۰ سُوْرَةُ النَّمْلِ آریہ کے خطوط و مکانات پر الف و م اوم لکھا جاتا ہے۔ قرآنی حروف کی تفسیر صحابہؓ نے جیسے حضرت علی ، ابن مسعود ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھم نے کی ہے۔ بعض تفاسیر میں بھی بہت لمبی تفسیر ان حروف کی بیان کی گئی ہے۔ غرض کہ جو مضمون کسی سورۃ کا یا کوئی قصہ سمجھ میں نہ آئے۔ اور اس کا سمجھنا دشوار ہو تو کچھ اسماء الہیہ ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ پس وہ اسماء الہیہ اس سورہ اور قصہ کے مضمون کے سمجھنے کے لئے کلید ہوتے ہیں۔ جس کی وہ آیات مظہر ہوتی ہیں۔ ان مفردات سے بڑا کام قرآن، حدیث، طب وغیرہ علوم میں لیا گیا ہے۔ جیسے قرآن میں صلی الوصل اولیٰ، صل، قد يوصل، ج جائز ، ص وقف مرخص حدیث میں ثنا حدثنا، نا اخبرنا ، طب میں مگر من کل واحد وغیرہ ۔ غرض تمام علوم عربی میں مقطعات سے کام لیا گیا ہے۔ اس ۔ ط سے اسم النبی لطیف اور اس سے سمیع مراد ہے۔ یعنی یہ آیات قرآن اور کتاب کھول کر سنانے والے کی ہیں ۔ جو اللہ لطیف سمیع کی حضور سے نازل ہوئی ہیں۔ جیسے فرامین کے سر پر لکھا جاتا ہے اجلاس فلاں حاکم سے یہ حکم جاری ہوا ہے۔ اسی طرح اس سورہ کے سرے پر فرمایا گیا۔ ( بدر جلد ا نمبر ۱۶ مورخہ ۲۰ جولائی ۱۹۰۵ ء صفحه (۲) هُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ - ترجمہ ۔ ہدایت و خوش خبری ہے ایمانداروں کے لئے۔ تفسیر ہدایت اور بشری مومنوں کیلئے ہے۔ لطافت سے ہدایت اور سمیع سے مہندی کو بشری ملتا ہے ہر ایک آسمانی مذہب والا اپنی کتاب کی نسبت ہادی اور بشری ہونے کا دعوی کرتا ہے۔ مگر صرف دعولی قابل پذیرائی نہیں ہوتا۔ جب تک ثبوت ساتھ نہ رکھتا ہو۔ ثبوت کے لئے بعض مذاہب بعد الموت کا وعدہ کرتے ہیں اور سچا مذہب وہ ہے۔ جس کے پاس وعدہ ہی وعدہ نہ ہو بلکہ نقد ثبوت بھی موجود ہو۔ چنانچہ مذہب اسلام اسی دنیا میں ہدایت والے کو بشری کا وعدہ دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ہدایت بھی ہے اور جو ہدایت پر ایمان لاوے اور عمل کرے۔ اس کو بشری بھی ہے ہدایت تو ہے۔ ( بدر جلد ا نمبر ۱۶ مورخہ ۲۰ جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ (۲)