حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 265 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 265

حقائق الفرقان ۲۶۵ سُورَةُ الشُّعَرَاء ۵۶ تا ۶۰ - وَ إِنَّهُمْ لَنَا لَغَابِظُونَ - وَ إِنَّا لَجَمِيعُ حَذِرُونَ - فَأَخْرَجْتُهُمْ مِنْ جَنَّتِ وَعُيُونٍ وَ كُنُوزِ وَ مَقَامٍ كَرِيمٍ - كَذلِكَ وَ أَوْرَثْتُهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ - ترجمہ ۔ اور انہوں نے ہم کو ناراض کیا ہے ۔ اور ہم سب چوکس رہنے والے لوگ ہیں ۔ اللہ فرماتا ہے ) پھر ہم نے نکال دیا ان کو باغوں اور چشموں سے۔ اور خزانوں اور عزت دار مکانوں سے۔ اور یہ واقعہ یوں ہی ہوا اور وارث بنایا اس جیسے ملک کا ہم نے بنی اسرائیل کو۔ تفسیر - خيرُونَ ۔ چوکس - با ساز و سامان وَ أَوْرَثْتُهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ ۔ دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ حضرت موسی نے اپنی جماعت کو جب ایک علاقہ میں فتح کیلئے جانے کو کہا تو انہوں نے جواب دیا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلا (المائدة :(۲۵) حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بہت رنج ہوا۔ تو دعا کی۔ فَافْرُقُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَسِقِينَ (المائدة: ۲۶) جس کی وجہ سے چالیس سال جنگل میں سرگردان رہے پھر تاریخ شہادت نہیں دیتی کہ بنی اسرائیل مصر کے مالک ہوئے۔ پس مراد یہ ہے کہ ملک مصر کی مثل دیئے گئے گو یا ضمیر مثل کی طرف پھیری گئی ۔ جیسے أَخَذْتُ دِرْهَبًا وَنِصْفَۂ میں نے ڈیڑھ درہم لیا حالانکہ وہ نصف اسی درہم کا نہیں بلکہ دوسرے درہم کا نصف ہے جو اس پہلے کی مثل ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۸ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۷) ۶۲ ۶۳ - فَلَمَّا تَرَاءَ الْجَمْعَنِ قَالَ أَصْحُبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ - قَالَ كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ - ترجمہ ۔ پھر جب ایک دوسرے کو دونوں جماعتیں دیکھنے لگیں تو موسیٰ کے ساتھ والوں نے کہا ہم تو پکڑے گئے ۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ہر گز نہیں ۔ بے شک میرے ساتھ تو میرا رب ہے وہ مجھے جلد راستہ بتا دے گا قریب کا۔ تفسیر تراء الْجَمْعِنِ ۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ رویت اور چیز ہے اور ادراک ا پس تو اور تیرا رب جاؤ اور ان سے تم دونوں لڑو۔ ۲ جدائی کر دے ہم میں اور فاسق نا فرمان قوم میں ۔