حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 16 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 16

حقائق الفرقان ۱۶ سُورَةُ مَرْيَمَ حضرت ابراہیم کی زندگی مومنوں کے لئے نہایت عمدہ اسوۂ حسنہ ہے۔ بلحاظ خوراک، پوشاک، قطع وضع ، خصائل فطری ، عزت، مقبولیت عامہ، ذکرِ خیر ، اپنی نظیر آپ ہی تھے۔ اس تمام کامیابی کا گر بتایا ہے کہ ابراہیم صدیق تھا۔ جس کے ادنی معنے راست گفتار کئے ہیں۔ ہر مضبوط کام جس کا نتیجہ عمدہ ہوا سے عرب صدق کہتے ہیں۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۲۷ و ۲۸ مورخه ۳۰ را پریل ، ۵ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۴) حضرت ابراہیم خدا کے بڑے پیارے بندوں میں تھے اور اپنی ذات میں کمالات کے جامع تھے۔ ہمیں تو ان کے والد کا نام بھی کسی صحیح روایت سے معلوم نہیں۔ پھر بھی ان کی مقبولیت کا یہ حال ہے کہ تمام یوروپ، تمام امریکہ، تمام مسلمان، تمام عرب، یہود، مجوسی ان کی عظمت کے قائل ہیں۔ کوئی بڑا ہی بد بخت ہو جو منکر ہو۔ بعض اولیاء و انبیاء کو عجیب مقبولیت ہے۔ یہ بھی خدا کی ایک شان ہے۔ سید عبد القادر جیلانی کو برا کہنے والے بہت کم ہیں ۔ ہاں رافضی ہوں تو ہوں ۔ سچ بولنا بڑا وصف ہے۔ یہ بڑا ہی کٹھن رستہ ہے۔ آٹھ پہر میں اس بات کی طرف بھی غور کرو کہ تم نے کہاں تک سچ بولا ہے۔ میں ایمان رکھتا ہوں کہ جس نے زبان پر قابو پایا۔ اس نے بہت سے عیوب پر قابو پالیا۔ نبی کے معنے خدا سے خبر پا کر اطلاع دینے والا اور بہت ہی بڑائی والا ۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۳ مورخه ۲۴ را گست ۱۹۱۱ ء صفحه (۳) ۴۳، ۴۴ - إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَابَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا - يَابَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي اهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا - ترجمہ ۔ جب اس نے اپنے تایا سے کہا اے میرے تایا ! تم کیوں پوجتے ہو ایسی چیز کو جو نہ کچھ سنے اور نہ دیکھے اور نہ تمہارے کام آوے ۔ اے میرے تایا ! مجھے ایسا علم ملا ہے جو تمہیں نہیں ملا تو تم میری پیروی کرو تو میں تم کو سیدھی راہ بتادوں گا۔ تفسیر- آب - چچا۔