حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 246
حقائق الفرقان ۲۴۶ سُوْرَةُ الْفُرْقَانِ دنوں میں مال مویشی گزار دیں۔ یا اس کی کوئی آیت لکھ کر گھول کر کسی بیمار کو پلا دیں۔ عدالت میں جھوٹا حلف اٹھانا ہو تو اسے ہاتھ میں لے لیں اور اسے یاد کریں تو محض اس لئے کہ رمضان شریف میں تراویح میں سنائیں گے تو چند روپے مل جائیں گے۔ یا حافظ کہلائیں گے تو کابل میں محصول سے بچ جائیں گے۔ افسوس ہے ان خیالات کے لوگوں ۔ پر کہ وہ ملازمت کے حصول کے لئے کس قدر تکالیف اپنے اوپر اٹھاتے ہیں۔ چودہ برس تک بی ۔ اے۔ ایم۔ اے بننے کے واسطے پڑھتے ہیں۔ مدرسہ کی فیسوں اور دیگر اخراجات میں گھر کا اثاثہ تک پک جاتا ہے پھر یہ بھی یقین نہیں کہ پاس ہوں گے ہے پھر یا فیل۔ اور پاس ہو کر ملازمت ملے گی یا نہیں؟ لیکن نہیں پڑھتے تو قرآن مجید ۔ نہیں سمجھتے تو قرآن مجید نہیں عمل کرتے تو قرآن مجید پر جس کے پڑھنے سمجھنے اور جس پر عمل کرنے سے یقیناً یقیناً دنیا و آخرت میں سکھ اور آرام کی زندگی ملتی ہے۔ اور بیشمار نمونے موجود ہیں جنہوں نے قرآن پر عمل کر کے دنیا کی سلطنتیں بھی پائیں اور آخرت میں اپنا گھر جنت الفردوس بنایا۔ مبارک وہ جو اس دردمند دل کی تقریر کو پڑھ کر قرآن مجید کی طرف توجہ کرے۔ تشحید الاذهان جلد ۶ نمبر ۱۱ماه نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۴۳۹،۴۳۸) میں اپنے تجربہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ قرآن شریف سے بڑھ کر راحت بخش کوئی کتاب اور اس کا مطالعہ نہیں ہے۔ مگر آہ ! درد دل سے کہتا ہوں ۔ اسی راحت بخش کتاب کو آج چھوڑ دیا گیا ہے۔ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا - اے میرے رب بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔ مجھے قرآن اس قدر محبوب ہے کہ میں بار بار اس کا تذکرہ کرنا۔ اس کا پیارا نام لینا اپنی غذا سمجھتا ہوں اور اسی دھن اور کو میں ابھی تک میں نے اس مضمون پر جو میں نے شروع کیا تھا کچھ بھی نہیں کہہ سکا یہی وجہ ہے کہ بعض آدمی س قسم کے طرز بیان کو پسند نہ کرتے ہوں ۔ مگر میں کیا کروں ۔ میں مجبور ہوں ۔ اپنے عشق کی وجہ سے بار بار اپنے محبوب ۔ وب کے تذکرہ سے ایک لذت ملتی ہے۔ کہے جاتا ہوں ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۴ صفحه ۱۷)