حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 241
حقائق الفرقان ۲۴۱ سُوْرَةُ الْفُرْقَانِ الْأَرْضِ لَيْسَتْ بِجَنَّةِ الْخُلْدِ قول ابي حنيفه و اصحابه رضی الله عنه ۔۔۔۔۔ (۱) ۔ جَنَّةُ الْخُلْدِ جس میں نیک لوگ موت کے بعد داخل ہوں گے اس کی صفت میں قرآن کریم فرماتا ہے۔ وہ دار المقام ہے وہ ایسی جگہ ہے جہاں داخل ہو کر پھر لوگ نہ نکلیں گے اور آدم علیہ السلام جس جنت میں رہے۔ وہاں سے نکالے گئے۔ (۲) - جَنَّةُ الْخُلدِ دار تکلیف نہیں اور جہاں آدم علیہ السلام رہتے تھے وہاں درخت کے نزدیک جانے سے ممانعت اور شرعی تکلیف ان پر قائم تھی ۔ (۳) - جَنَّةُ الْخُلْدِ کو اللہ تعالیٰ دار السلام فرماتا ہے۔ اور آدم اور حوا علیھما السلام جہاں رہے وہاں سے سلامت نہ نکلے ۔ وہ جگہ ان کیلئے دارالسلام نہ ہوئی۔ (۴) ۔ جَنَّةُ الْخُلْدِ کا نام دار القرار ہے اور جہاں آدم علیہ السلام اقامت پذیر تھے۔ وہ مقام ان کے واسطے دار الزوال ہو گیا۔ (۵) - جَنَّةُ الْخُلْدِ کی تعریف میں آیا ہے ۔ وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ (الحجر : ۴۹) اور جہاں آدم علیہ السلام رکھے گئے ۔ وہاں سے نکلے یا نکالے گئے ۔ (1) - جَنَّةُ الْخُلْدِ کی نسبت آیا ہے لا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ ۔ (الحجر:۴۹) اور جہاں آدم علیہ السلام رکھے گئے یا مقیم ہوئے وہاں ان کو تکلیف پہنچی ۔ (۷) - جَنَّةُ الْخُلْدِ کی نسبت جس کو بہشت کہتے ہیں وارد ہے لا لَغُو فِيهَا وَ لَا تأثيم - (طور : ۲۴) اور جہاں آدم علیہ السلام رہتے تھے۔ وہاں شیطان نے لغو اور گناہ کیا۔ (۸) - جَنَّةُ الْخُلْدِ کی نسبت آیا ہے ۔ لا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغُوا وَلَا كِذَّبَات (النبا : ۳۶) اور جہاں آدم علیہ السلام رہے وہاں جھوٹ سنا۔ ا حضرت امام ابو حنیفہ اور ان کے ساتھیوں کا قول ہے۔ کہ وہ جنت زمین میں ہے نہ کہ وہ جنت جس میں نیک لوگ مرنے کے بعد داخل ہوں گے۔ ہے اور وہاں سے کبھی نکالے بھی نہیں جائیں گے۔ سے اس میں ان کو کوئی کوفت نہ ہوگی۔ کے جنت میں بدکاری اور بہکنا نہیں۔ ۵ اس میں لغو اور جھوٹ نہ سنیں گے۔