حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 236
حقائق الفرقان ۲۳۶ سُوْرَةُ الْفُرْقَانِ ان باتوں کیلئے زہر مار سے کام نکلنا دشوار کیا محال ہے۔ ع جول گندم از گندم بروید جون جو گناہ اور جرائم کے ارتکاب سے نیکی اور فرماں برداری کے انعامات کو طلب کرنا بے ریب تقدیر اور خدائی اندازے کے خلاف ہے۔ اور نیکی اور فرماں برداری پر دوزخ میں جانے کا یقین بے شبہ رحیم اور کریم ۔ عادل ذات پاک پر ظلم کا الزام قائم کرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے۔ أَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا لَا يَسْتَوْنَ (السجده : ١٩)۔ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَارِ (ص: ۲۹) ۔ اسلام تقدیر کے مسئلے پر یقین دلا کر اہلِ اسلام کو اس بات پر ابھارتا ہے کہ برے کاموں کے نزدیک مت جاؤ۔ برے بیچ برا پھل لاتے ہیں ۔ آرام و آسودگی کے سامان مہیا کرو۔ بے دل مت ہو کیونکہ ہر ایک چیز کا اندازہ خدا کی درگاہ سے معین ہو چکا ہے۔ نقصان کے اندازے والی چیزیں نافع نہ ہوں گی اور منافع کی مثمر اشیاء دکھوں کی موجب نہ ہوں گی ۔ ہر ایک چیز اپنی فطرت پر ضرور قائم ہے اور تمہارا ہر فعل وجوباً وہی نتیجہ دے گا جو اس کی ترکیب کا مقتضاء ہے۔ آدمی کے اعمال بد اور افعال مکروہ سے آدمی پر وبال آتا ہے۔ جب ہر ایک تکلیف کا سر چشمہ گناہ ٹھہرا۔ جب ہر ایک گناہ کا نتیجہ تکلیف ٹھہری تو منصفو! بے جا تعجب میں ہلاک نہ ہونے والو ۔ قیامت میں نجات کے امیدوارو۔ راستی پسندو۔ سوچو اور اندازہ کرو کہ حسب تعلیم قرآن حضرت انسان کو گناہ سے کیسی نفرت ضرور ہے اور آدمی کو خدا کی نافرمانی سے بچنا کیسا لا بد ہوا۔ بھلائی کے لینے میں اور برائی سے بچنے کے لئے مسلمانوں ۔ قرآن کے ماننے والوں کو کیسی تاکید ہوئی۔ جب ہر ایک تنزل اور مصیبت گناہ کا نتیجہ ہوا۔ تو اہل اسلام کو کہاں تک ترقی کرنے اور عصیان البہی سے بچنے کی سعی کرنی چاہیے۔ جن نافہم لوگوں نے کہا ہے کہ گناہ کو مسلمان ایک خفیف حرکت اور وہ بھی خدا کی طرف ے گندم سے گندم ہی اُگتی ہے اور جو سے جو ۔ ۲ے بھلا ایک جو ہے ایمان پر برا بر ہے اس کے جو بے حکم ہے۔ نہیں برابر ہوتے ۔ سے کیا ہم کریں گے ڈر والوں کو برابر ڈھیٹ لوگوں کے۔