حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 233 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 233

حقائق الفرقان ۲۳۳ سُوْرَةُ الْفُرْقَانِ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ وَ لَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا - ترجمہ ۔ وہ پاک ذات ہے جس کی سلطنت ہے آسمان اور زمین میں اور اس نے نہ کوئی بیٹا اور نہ برابر والا اپنا مقرر کیا ملک میں ۔ ہاں اس نے سب ہی کو پیدا کیا ہے پھر اس کا بخوبی اندازہ کر دیا ہے۔ تفسیر ۔ لَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا ۔ جب والد نہیں ۔ تو کسی کا کیا لحاظ ۔ جب قوم بگڑی ۔ نذیر آ گیا۔ اس میں پیشگوئی ہے کہ ابن اللہ کہنے والے بھی مفتوح ہوں گے۔ اور مشرک بھی ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ رجولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۴) اللہ تعالی لاشریک ہے۔ سب کا خالق ہے۔ دلیل یہ ہے کہ ہر ایک چیز ایک اندازہ پر ہے اور محدود ہے اور یہ بات اگر چہ آریہ سماج اسے مانتے ہیں ۔ مشاہدات اور ، اور تجارب سے بھی ظاہر ہے۔ اور ہر ایک محدود کیلئے حد بندی کرنے والا ضروری ہے اور مادہ و جیو کی حد بندی کرنے والا پھر خدا کے سوا کون ہے؟ پس وہ ہر ایک چیز کا خالق اللہ ہی ہے۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۳۵) تقدیر، تدبیر اور امتحان تو سب سچے مسئلے ہیں اور مطابق واقع ہیں اور تمام نظام عالم اور انسانی افعال و اعمال میں نظر آ رہے ہیں انہیں ڈھکوسلا کہنا اپنی عقلمندی کا ثبوت دینا ہے۔ سنو! تقدیر کے معنی ہیں اندازہ بنا دینا اس کا ثبوت قرآن کریم میں یہ ہے خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَةً تَقْدِيرًا (الفرقان : ٣) کیا معنے؟ ہر ایک چیز کو اللہ تعالیٰ نے بنایا پھر اس ہر چیز کے لئے ایک اندازہ اور حد مقرر کر دی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ماسوا سب محدود اور اس کے احاطہ کے ماتحت ہے ۔ اب غور کر لو کہ یہ مسئلہ ڈھکوسلا ہے یا تمام ترقیات دینی اور دنیوی اسی تقدیر اور اندازہ سے ہو رہی ہیں اگر اس کو نہ مانا جاوے تو نہ دین رہے اور نہ دنیا۔ مثلاً ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی فرماں برداری اس لئے کرتے ہیں کہ اس کا اندازہ یہی ہے کہ ان باتوں کا نتیجہ ہمارے حق میں نیک اور عمدہ ہوگا۔ اگر اس اندازہ پر ایمان نہ ہو تو پھر نیکی کیوں کی جاوے۔ غرض اس آیت نے بتایا ہے کہ ہر ایک عمل نتیجہ خیز ہے۔ اور بڑے علیم و حکیم نے تمام