حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 230
حقائق الفرقان ۲۳۰ سُورَةُ النُّورِ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت ابن ام مکتوم کو اپنا جانشین بنایا۔ جس میں نماز پڑھانا شامل ہے۔ مِنْ بُيُوتِكُمُ الى أَوْ بُيُوتِ أَخَوَتِكُمُ - ہندوستان میں لوگ اکثر اپنے گھر میں خصوصاً ساس بہو کی لڑائی کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔ قرآن مجید پر عمل کریں تو ایسا نہ ہو۔ دیکھو اس میں ارشاد ہے کہ گھر الگ الگ ہوں ۔ ماں کا گھر الگ۔ اولا د شادی شدہ کا گھر الگ۔ فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا ۔ جب اپنے گھروں میں جاؤ تو سلام جاؤ تو سلام علیک کہو ۔ کہو۔ حدیث میں آیا ہے کہ اگر گھر میں کوئی نہ ہو تو السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِين' کہہ لیا کرو۔ اکثر گھروں میں اس کا عملدرآمد نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان گھروں میں سلامتی بھی کامل نہیں ۔ سَفرُ السَّعَادَة جنہوں نے لکھی ہے۔ وہ ہندوستان میں آئے ۔ آٹھویں صدی کو آئے۔ بڑی خوبی کے آدمی تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ہندوستان میں بادشاہوں کو سلام علیک کہنے کا رواج نہیں ۔ اس کا یہ نتیجہ دیکھ لیں گے۔ چنانچہ سلطنت ہی نہ رہی۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ ر جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۳) ۶۴ - لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمُ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا قَدْ يَعْلَمُ اللهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِوَاذًا فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ - ترجمہ ۔ رسول اللہ کے پکارنے کو ایسا نہ سمجھا کرو جیسا بعض تمہارا تمہارے بعض کو پکارتا ہے اللہ ان کو خوب جانتا ہے جو چل دیتے ہیں تم میں سے آنکھ بچا کر ۔ تو چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ جو رسول اللہ کے حکم کا خلاف کرتے ہیں کہ کہیں ان پر آ نہ پڑے کوئی فتنہ یا ان کوٹیس دینے والا عذاب نصیب نہ ہو جائے ۔ تفسیر ۔ لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ ۔ اس بات کا خیال رکھو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پکار ایسی نہ ہو جیسی اوروں کی پکار ہوتی ہے۔ مومن کو نہ چاہیے کہ نبی کریم کے بلانے کو بھی ایسا ہی سمجھے جیسا اے سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔