حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 226
حقائق الفرقان ۲۲۶ سُورَةُ النُّورِ انسان خوب مطالعہ کرے کہ اسلام سے بڑھ کر نعمت اور عزت و شرافت کا موجب اور کوئی چیز نہیں ہے۔ میں نے پہلے بتلایا ہے کہ زمانہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے خلیفہ بنانے کا خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ اور وہ خلیفہ دلائل سے نہیں آدمیوں کے انتخاب سے نہیں ۔ بلکہ خدا تعالیٰ ہی کی تائید اور نصرت اور طاقت سے بنیں گے۔ اب اس زمانہ کے منعم علیہ پر غور کرو۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ منصوبہ باز اور مشرک ہے۔ عبادت میں سست ہے۔ ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ ایک عابد اور موحد خدا کا پرستار کہلانے والا ممکن ہے ریا کار ہو ۔ مگر اللہ تعالیٰ اس کے خلوص نیت اور صدق کو اپنی تائیدات اور نصرتوں سے ثابت کر رہا ہے۔ پھر یہ خیال ہو سکتا ہے کہ خوف کے وقت ہی وہ پرستار الہی ہو ۔ نہیں نہیں ۔ وہ جبکہ خوف امن سے بدل جاتا ہے وہ اس وقت بھی سچا پرستار ہوتا ہے۔ الحکم جلد ۳ نمبر ۷ مورخہ ۳ مارچ ۱۸۹۹ء صفحہ ۵-۶) ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وعدہ اور پیشنگوئی کے موافق جو استثناء کے ۱۸ باب میں کی گئی تھی ۔ مثیل موسی ہیں۔ اور قرآن نے خود اس دعوی کو لیا ۔ إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (المزمل : ١٦ ) - اب جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسی ٹھہرے اور خلفاء موسویہ کے طریق پر ایک سلسلہ خلفائے محمد یہ کا خدا تعالیٰ نے قائم کرنے کا وعدہ کیا جیسا کہ سورہ نور میں فرمایا۔ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۔۔۔۔ (الآیۃ ) پھر کیا چودہویں صدی موسوی کے خلیفہ کے مقابل پر چودہویں صدی ہجری پر ایک خلیفہ کا آنا ضروری تھا یا نہیں؟ اگر انصاف کو ہاتھ سے نہ دیا جاوے اور اس آیت وعدہ کے لفظ گیا پر پورا غور کر لیا جاوے تو صاف اقرار کرنا پڑے گا کہ موسوی خلفاء کے مقابل پر چودہویں صدی کا خلیفہ خاتم الخلفاء ہوگا اور وہ مسیح موعود ہوگا۔ - ا حضرت میرزاغلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام - مرتب ۔ ۲۔ ہم نے تمہاری طرف ویسا ہی رسول بھیجا ہے۔ جو تم پر نگران ہے جیسا کہ فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔