حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 220
حقائق الفرقان ۲۲۰ سُورَةُ النُّورِ یہ بھی ایک سنت اللہ چلی آتی ہے کہ خلفاء پر مطاعن ہوتے ہیں ۔ آدم پر مطاعن کرنے والی خبیث روح کی ذریت بھی اب تک موجود ہے ۔ صحابہ کرام پر مطاعن کرنے والے روافض اب بھی ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان کو تمکنت دیتا ہے اور خوف کو امن سے بدل دیتا ہے۔ الحکم جلد ۳ نمبر ۱۶ مورخه ۵ رمئی ۱۸۹۹ء صفحه ۵) چونکہ خلافت کا انتخاب عقل انسانی کا کام نہیں ۔ عقل نہیں تجویز کر سکتی کہ کس کے قومی قوی ہیں کس میں قوت انتظامیہ کامل طور پر رکھی گئی ہے۔ اس لئے جناب الہی نے خود فیصلہ کر دیا ہے۔ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ خلیفہ بنانا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔ اب واقعات صحیحہ سے دیکھ لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے کہ نہیں؟ یہ تو صحیح بات ہے کہ وہ خلیفہ ہوئے اور ضرور ہوئے۔ شیعہ بھی مانتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان کی بیعت آخر کر لی تھی پھر میری سمجھ میں تو یہ بات آ نہیں سکتی اور نہ اللہ تعالیٰ کو قوی ، عزیز ، حکیم خدا ماننے والا کبھی و ہم بھی کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ پر بندوں کا انتخاب غالب آ گیا تھا۔ منشاء النبی نہ تھا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہو گئے۔ غرض یہ بالکل سچی بات ہے کہ خلفائے ربانی کا انتخاب انسانی دانشوں کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ اگر انسانی دانش ہی کا کام ہوتا ہے تو کوئی بتائے کہ وادی غیر ذی زرع میں وہ کیونکر تجویز کر سکتی ہے؟ چاہیے تو یہ تھا کہ ایسی جگہ ہوتا جہاں جہاز پہونچ سکتے ۔ دوسرے ملکوں اور قوموں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے اسباب میسر ہوتے ۔ مگر نہیں وادی غیر ذی زرع ہی میں انتخاب فرمایا اس لئے کہ انسانی عقل ان اسباب و وجوہات کو سمجھ ہی نہیں سکتی تھی ۔ جو اس انتخاب میں تھی۔ اور ان نتائج کا اس کو علم ہی نہ تھا جو پیدا ہونے والے تھے۔ عملی رنگ میں اس کے سوا دوسرا منتخب نہیں ہوا۔ اور پھر جیسا کہ عام انسانوں اور دنیا داروں کا حال ہے کہ وہ ہر روز غلطیاں کرتے اور نقصان اٹھاتے ہیں آخر خائب اور خاسر ہو کر بہت سی حسرتیں اور آرزوئیں لے کر مر جاتے ہیں۔ لیکن جناب البہی کا انتخاب بھی تو