حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 13
حقائق الفرقان الله سُورَةُ مَرْيَمَ مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا - حقارت سے ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو کل کا لونڈا ہے اس سے کیا بات کریں ۔ اس کے دودھ کے دانت ہیں ۔ اثنِي الْكِتٰبَ وَجَعَلَنِی نَبِيًّا ۔ اس بات پر قرینہ ہے کہ آپ اس وقت بچے نہ تھے ۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۳ مورخه ۲۴ را گست ۱۹۱۱ ء صفحه (۲) ۳۶۔ مَا كَانَ لِلَّهِ أَنْ يَتَّخِذَ مِنْ وَلَدٍ سُبْحَنَهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ - ترجمہ ۔ اللہ کی شان کے لائق نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے ۔ وہ پاک ذات ہے۔ ہاں جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو بس اتنی بات ہے کہ اُس کام کو کہہ دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔ تفسیر - سبحنه ۔ یہ ایک دلیل ہے کہ بے جرم کو پکڑنا اور مجرم کو چھوڑ نا سبحانیت کے خلاف ہے اس میں ابطالِ کفارہ ہے۔ ۳۸ - (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۲۷ و ۲۸ مورخه ۳۰ را پریل، ۵ مئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۴) فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِنْ بَيْنِهِمْ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ مَّشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيمٍ ۔ ترجمہ ۔ پھر اختلاف کرنے لگیں ٹکڑیئیں آپس میں تو تباہی ہے کافروں کے لئے بڑے دن کی ۔ حاضری سے۔ تفسیر - فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِنْ بَيْنِهِمْ ۔ کہ تم میں اگر اس قسم کی بحثیں ہوں کہ خلیفہ اور فلاں کے کیا تعلقات ہیں؟ اور پھر اس پر فیصلہ کرنے لگ جاؤ تو مجھے سخت رنج پہونچتا ہے تم مجھے خلیفہ المسیح کہتے ہو۔ میں تو اس خطاب پر کبھی پھولا نہیں۔ بلکہ اپنی قلم سے کبھی لکھا بھی نہیں۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس بیہودہ بخشیں کرنے والے لوگوں کو اپنی جماعت میں نہیں سمجھتا۔ میں تمام جماعت کیلئے دعا کرتا ہوں مگر ایسے لوگوں کیلئے دعا بھی پسند نہیں کرتا۔ ان کو کیا حق ہے کہ تفرقہ اندازی کی باتیں کریں۔ آگ پہلے دیا سلائی سے پیدا ہوتی ہے۔ مگر آخر کار گھر پھر محلہ پھر شہر کے شہر جلا دیتی ہے۔ ایسے لوگ اگر میری