حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 215 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 215

حقائق الفرقان ۲۱۵ سُورَةُ النُّورِ ان رکوعوں میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک نور معرفت کا ہوتا ہے جس سے بھلے برے کی تمیز ہوتی ہے۔ وہ نوران گھروں میں ہوتا ہے جن گھروں میں صبح و شام اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے۔ وہاں جولوگ رہتے ہیں وہ تاجر ہیں ۔ ان کے گھر چھوٹے ہیں پر کسی دن اللہ ان گھروں کو بڑا بنا دے گا۔ چنانچہ اس قرآن شریف کا جمع کرنے والا حضرت ابو بکر صدیق ہے۔ پھر حضرت عمرہ پھر حضرت عثمان اس کے شائع کرنے والے۔ پھر حضرت علیؓ جن سے سچے روحانی علوم دنیا میں پہونچے۔ میں نے بھی خود بلا واسطہ حضرت علی سے قرآن کے بعض معارف سیکھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان رکوعوں میں یہ بھی بتا دیا ہے کہ انصار میں خلافت نہ ہو گی بلکہ مہاجرین میں پھر یہ بتایا کہ ان کا مقابلہ مسلمان بھی کریں گے اور کفار بھی۔ چنانچہ حضرت ابوبکر کی مخالفت اسی طرح ہوئی ۔ بعض لوگ خلافت کے قائل نہ تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کی مثال دی کہ ایک وہ جو کلر کے بخارات کو پانی سمجھے ۔ دوسرے وہ جو شریعت کے سمندر میں بھی ہو کر مقابلہ کریں گے۔ انجام یہ کہ چرند پرندان کا گوشت کھائیں گے۔ خلفاء راشدین میں سے حضرت ابوبکر کے لئے بہت مشکلات کرد۔ ت تھے۔ لشکر حضرت اسامہ کے ساتھ روانہ کر دیا گیا تھا۔ ادھر عرب میں جا بجا بغاوت پھیل گئی ۔ مکہ میں لوگ آمادہ بغاوت تھے کہ وہاں ایک عقلمند انسان پہونچ گیا کہ تم ایمان لانے میں سب سے پیچھے تھے۔ اب مرتد ہونے میں سب سے پہلے ہو۔ تو اس پر وہ باز آ گئے ۔ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ مُعْرِضُونَ میں جس گروہ کا ذکر ہے۔ وہ نہ حضرت ابوبکر کے زمانہ میں نہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں۔ نہ حضرت عثمان وعلی کے زمانے میں ۔ غرض کبھی مظفر و منصور نہیں ہوا۔ مگر دوسرا فریق سَمِعْنَا وَ أَطَعْنَا۔ (البقرہ:۲۸۷) کہنے والا مظفر و منصور رہا۔ چنانچہ قرآن مجید میں فرمادیا وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقره: ۲) ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۳) اے ہم نے سنا اور جان لیا۔ ہے اور یہی لوگ نہال اور بامراد ہیں۔