حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 210 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 210

حقائق الفرقان ۲۱۰ سُورَةُ النُّورِ موت کی تیاری کرتا ہے قبل اس کے کہ موت نازل ہو۔ ظاہری و باطنی طور پر پاکیزہ رہتا ہے یہاں تک کہ تجارت و بیع اس کو اللہ تعالیٰ سے غافل نہیں کرتی ( رجالُ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةً وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذكر الله ) اصحاب صفہ انہی لوگوں میں سے تھے ۔ یہ لوگ دن بھر محنت و مشقت کرتے۔ اس سے اپنا گزارہ کرتے اور اپنے بھائیوں کو بھی کھلاتے اور پھر رات بھر وہ تھے اور قرآن شریف کا مشغلہ۔ صحابہ میں تین گروہ تھے۔ بعض ایسے کہ حضور نبوی میں آئے۔ کچھ کلمات سنے۔ کچھ مسائل پوچھے پھر چلے گئے اور بس ۔ نماز پڑھ لی، زکوۃ دی، روزہ رکھا ، بشرط استطاعت حج کیا اور معروف امور کے کرنے اور نواہی سے رکنے میں حسب مقدور کوشاں رہے۔ اور بعض ایسے جو اکثر صحبت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں بیٹھے رہتے ۔ اس مخلوق کے اندر ایمان رچا ہوا تھا۔ سخت سے سخت تکلیف، مصیبت اور دکھ اور اعلیٰ درجہ کی راحت، آرام اور سکھ میں ان کا قدم یکساں خدا کی طرف بڑھتا تھا۔ انہی لوگوں میں سے خواص ایسے تیار ہو گئے کہ خدا ان کا متوتی ہو گیا۔ مجھے اس موقع پر ایک شعر یاد آ گیا ه قَوْمٌ هُمُومُهُمْ بِاللَّهِ قَدْ عَلِقَتْ وہ ایسے لوگ ہیں کہ سارا خیال ان کو اللہ کا رہ جاتا ہے۔ اور اس کے بغیر کسی کے ساتھ حقیقی تعلق نہیں رکھتے۔ نبی کی اتباع وہ کرتے ہیں مگر اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ بادشاہ کی اطاعت کرتے ہیں تو اسی لئے کہ اللہ نے حکم دیا۔ بیوی بچوں سے نیک سلوک بھی اسی لئے کرتے ہیں۔ وہ دنیا کے کاروبار کرتے ہیں۔ چھوڑ نہیں بیٹھتے مگر یہ سب باتیں یہ سب کام ان کے اللہ ہوتے ہیں چنانچہ فرمایا۔ فَمَطْلَبُ الْقَوْمِ مَوْلَاهُمْ وَسَيِّدُهُم يَأْحُسْنَ مَطْلَبِهِمْ لِلْوَاحِدِ الصَّمَدِ ( بدر جلد ۹ نمبر ۱۴ مورخہ ۲۷ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحہ ۹۰۸) ٣٩ لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُم مِّنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ - ترجمہ ۔ تاکہ ان کو اللہ جزا دے ان کے عمدہ سے عمدہ کاموں کی اور اپنا مال ان کو اور بھی زیادہ دے لے وہ ایسی قوم ہے جس کی ساری فکریں اور ارادے اللہ تعالیٰ کے ساتھ وابستہ ہیں ۔ ۲ لوگوں کی طلب گاہ ان کا آقا اور سردار ہے۔ کیا ہی کہنے ان کی خوبصورت طلب کے کہ ان کی طلب گاہ ایک بے نیاز ہستی ہے۔