حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 208 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 208

حقائق الفرقان ۲۰۸ سُورَةُ النُّورِ کیسے ہی گل و گلزار ہوں ۔ کیسے ہی لطیف ریشم کے کپڑے ہوں ۔ مگر جب تک روشنی نہ آوے کچھ تمیز نہیں ہو سکتی ۔ اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جہان میں جو کچھ عجائبات دیکھتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کا نور ہے۔ یعنی حضرت حق سبحانہ کے نور کا ظہور ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نور جن پر پڑتا ہے۔ ان میں بعض کو آفتاب بعض کو چاند بنادیا۔ مَثَلُ نُورِہ - اللہ تعالیٰ کے انوار میں سے ایک نور کی مثال یہ ہے۔ گمشکوة - ایک طاق ہو۔ اس میں چراغ رکھ دیں۔ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ - اس کے اوپر ایک چمنی رکھ دیں ۔ چمنی کے رکھنے سے کاربن جلنے کے سبب دھواں جاتا رہتا ہے۔ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّی - پھر اس چمنی کے اوپر ایک اور گلوب (globe) رکھ دیا۔ اس گلوب کے رکھنے سے اس کے خراب اجزاء جل کر بھڑک اٹھتے ہیں ۔ پھر وہ چراغ ستارے کی طرح ہو جاتا ہے۔ دری جو ظلمت کو دور کرے ۔ دھواں نہ رہے۔ يُوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبْرَكة ۔ اس چراغ میں کوئی تیل ہو۔ پر وہ تیل برکت والا ہو۔ جو نہ شرق میں ملے ۔ نہ غرب میں ۔ ( دنیا کا نہ ہو ) یعنی فضل الہی کا تیل اس میں ڈالیں۔ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارُ ۔ پھر اس تیل کو آگ لگانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ وہ تو البہی فضل ہے۔ وہ کو کب دری بنے گا الہی فضل سے۔ نُورٌ عَلَى نُورٍ ۔ نور تو وہ پہلے ہی ہے۔ پھر طاق، چمنی، گلوب سے نور علی نور ہو گیا۔ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ ۔ اس نور میں یہ راہیں کیا نظر آتی ہیں۔ ہدایت کی نظر آئے گی۔ ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ے رجولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۲) اللَّهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ۔ نور کے معنی ہادی کے ہیں۔ مَثَلُ نُورِہ ۔ اس کے ایک نور کی مثال دیتا ہے۔ جو خلفاء کے گھر میں ہوتا ہے۔ تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۶۹)