حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 207 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 207

حقائق الفرقان ۲۰۷ سُورَةُ النُّورِ بنادے اپنے فضل سے اور جو غلام چاہتے ہیں تحریر تو ان کو تحریر دو۔ اگر تم ان میں لیاقت دیکھو اور ان کو اللہ کے مال میں سے دو جو اللہ نے تم کو دے رکھا ہے اور مجبور نہ کرو تمہاری چھوکریوں کو حرام کاری پر اگر بچا رہنا چاہیں تا کہ تم دنیا کا مال لینا چاہو اور جو ان کو مجبور کرے گا تو بے شک اللہ ان کے جبر کے پیچھے لونڈیوں کے لئے غفور رحیم ہے۔ تفسير - لا تُكْرِهُوا - رنڈیاں نہ بناؤ۔ رسم متعہ کا استیصال کیا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ے رجولائی ۱۹۱۰ صفحہ ۱۸۲) ٣٦ - اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَ الْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْلُوةٍ فِيهَا مِصْبَاحُ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارُ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِى اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ۔ ترجمہ ۔ اللہ آسمان اور زمین کے وجود کا سبب ہے اور ان کا اجالا ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسے ہے جیسے ایک طاق ہے جس میں ایک چراغ ہے وہ چراغ شیشے کی قندیل میں رکھا ہوا ہے اور وہ قندیل گویا وہ ایک چمکدار تارا ہے۔ وہ روشن کیا جاتا ہے زیتون کے مبارک درخت سے وہ نہ شرقی ہے نہ غربی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تیل روشن ہو جائے اگر چہ اس کو آگ بھی نہ چھوئے۔ وہ نور علی نور ہے اور اللہ اپنے نور کی راہ بتا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بیان فرماتا ہے اعلیٰ درجہ کی بات لوگوں کو اور اللہ بخوبی واقف ہے ہر ایک چیز سے۔ تفسیر ابتدا سورۃ میں فرمایا کہ ہم نے بڑے ضروریا۔ ے ضروری احکام اس سورۃ میں د سورۃ میں دئے پھر فرمایا کہ زنا بری چیز ہے (ب) کسی گھر میں بلا اجازت جانا منع ہے (ج) کسی پر عیب لگانا بہت برا ہے۔ لیکن ساتھ بدی کو دور کر دینے کا حکم ہے۔ نور سے تمیز پیدا ہوتی ہے اور تمام علوم خدا ہی کی طرف سے آتے ہیں ۔ ظلمت میں جو چیز پڑی ہوتی ہے۔ اس کی خوبی یا نقص کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ اندھیرے میں