حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 196
حقائق الفرقان ۱۹۶ سُورَةُ النُّورِ - لیکن اگر وہ اپنی بات کے واسطے چار گواہ پیش نہیں کر سکتا تو وہ جھوٹا اور خود مجرم ہے اور سزا کے لائق ہے۔ اس سورہ شریف میں اللہ تعالیٰ نے اختلاف کو مٹایا ہے ۔ سب سے پہلے زنا کی جڑ کو کاٹا ہے جو سب سے زیادہ دنیا میں اختلاف کا موجب ہوا کرتا ہے۔ پھر لوگوں کو بدظنی سے بچنے کے واسطے ہدایت کی ہے اور بے جا تہمت لگانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ جو کوئی کسی پر بے جا تہمت لگاتا ہے وہ خود اس میں گرفتار ہوتا ہے ۔ امام شعرانی نے لطائف المئن میں لکھا ہے کہ مصر میں ایک بزرگ ایک محلہ میں رہتے تھے۔ چند نوجوان ان کی خدمت میں تھے جن کے متعلق محلہ والے اس بزرگ پر اتہام باندھتے تھے۔ وہ بزرگ ان کو ہمیشہ نصیحت کرتے مگر وہ باز نہ آتے ۔ آخر تنگ آ کر اس بزرگ نے بددعا کی کہ جو جھوٹا ہے وہ وبال پائے ۔ اس بد دعا کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ سارا محلہ کنجروں اور لوطیوں کا ہو گیا ۔ مَعَاذَ الله ( بدر جلد نمبر ۱۵ مورخہ ۱۳ جولائی ۱۹۰۵ ء صفحه (۴) وَ لَوْلَا فَضْلُ اللهِ ۔ حضرت عائشہ کی عمر ٦ سال کی تھی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نکاح ہوا اور 9 برس کی عمر تھی جب نبی کریم اپنے گھر میں لے آئے تھے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہم بہت ہی معمولی غذا تنگی سے کھاتے تھے۔ بھلا 9 برس کی لڑکی کہاں موٹی تازہ ہوگی ۔ حضرت عائشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں گئی تھیں ۔ اونٹوں کے چلانے والے لوگ بڑے کج خلق اور تند خو ہوتے ہیں۔ حضرت عائشہ ایک مقام پر ذرا قافلہ سے باہر پاخانہ کی حاجت رفع کرنے کے لئے گئیں۔ وہاں گلے کا ہار ٹوٹ گیا۔ اس کے دانے چنے لگیں ۔ ذرا دیر ہوگئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کوئی گھنٹہ جرس نہ ہوتا ۔ اونٹ والوں نے اونٹ کس لئے اور قافلہ روانہ ہو گیا۔ حضرت عائشہ واپس آئیں تو دیکھا کہ لوگ چلے گئے تھے۔ آپ نے سوچا جس وقت نبی کریم مقام پر پہونچیں گے اور مجھ کو نہ پائیں گے تو کسی کو لینے بھیجیں گے۔ قافلوں میں ایک شخص قافلہ سے پیچھے رہتا ہے۔ وہ آیا۔ تو آپ اس کے اونٹ پر سوار ہو کر آئیں اور بعض منافقین نے بے ہودہ بکواس شروع کی ۔ اللہ تعالیٰ بریت کر کے ارشاد فرماتا ہے کہ اگر فضل الہی سے معافی نہ ہوتی ۔ تو حضرت عائشہ پر اتہام ان سب کو تباہ کر دیتا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخه ۷ رجولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۱ ۱۸۲)