حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 195
حقائق الفرقان ۱۹۵ سُورَةُ النُّورِ لوگوں نے تہمت لگائی ہے اور اس میں میرا بچہ بھی شریک ہے۔ اسی لئے اس کو گالی دیتی ہوں۔ پس صدیقہ اسی دن اپنے میکے میں چلی آئی۔ ایک مہینہ کے بعد آنحضرت اس کے پاس آئے ۔ اور کہا۔ عائشہ اگر تجھ سے غلطی ہوئی ہے تو تو استغفار کر۔ اگر نہیں ہوئی تو خدا تعالیٰ مجھے وحی سے آگاہ کر دے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ غیب کی کنجیاں اپنے ہاتھ میں نہیں رکھتے ۔ بہت لوگ ان کو خدا کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔ یاد رکھو کہ خدا بڑا بادشاہ ہے۔ کل انبیاء ، اولیاء، مرسل اس کی قوت کے نیچے رہتے ہیں اور جس کو وہ چاہتا ہے اس کو اطلاع دیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیات نازل کیں اور اسی بی بی کا پاک اور مطہر ہونا بتلایا۔ فرمایا لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا - الى آخره - جب عائشہ کے حق میں تم لوگوں نے برا فقرہ سنا تھا تو نیک گمانی سے کیوں کام نہ لیا۔ پس میں تمہیں یہی فقرہ سنانا چاہتا ہوں کہ نیک گمانی سے کام لیا کرو۔ خدا فرماتا ہے کہ کیوں تم نے ایسی باتیں سن کر نہ کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات کہنا مناسب نہیں۔ پس یہ عیب مردوں میں بھی ہے۔ پھر عورتیں اس پر بڑے بڑے منصوبے باندھتی ہیں ۔ اور اس پر بڑی بڑی حکایات چلاتی ہیں۔ پس خدا نے اس سے منع کیا ہے۔ ( الحکم جلد ۸ نمبر ۲۵ و ۲۶ مورخه ۳۱ جولائی و ۱۰ راگست ۱۹۰۴ صفحه ۹) ۱۴ ، ۱۵ - لَوْ لَا جَاءُو عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ۚ فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا بِالشُّهَدَاءِ فَأُولَيكَ عِنْدَ اللهِ هُمُ الْكَذِبُونَ - وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِي مَا أَفَضْتُمْ فِيهِ عَذَابٌ عَظِيمٌ - ترجمہ ۔ وہ لوگ کیوں نہ لائے اس پر چار گواہ جب وہ گواہ نہیں لائے تو یہی لوگ اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں ۔ اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو تم کو چھو جاتی ضرور اس چرچا کرنے میں کوئی بڑی آفت۔ تفسیر کیوں نہیں لائے اس پر چار گواہ۔ پس جب نہیں لا سکے گواہ تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹے ہیں۔ جو شخص کسی کے متعلق ایسا کلمہ بولے۔ اس سے چار گواہ طلب کرنے چاہئیں جو