حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 192
حقائق الفرقان ۱۹۲ سُورَةُ النُّورِ ا وَلَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَ أَنَّ اللهَ تَوَّابٌ حَكِيمٌ ۔ ترجمہ ۔ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ تم اللہ کا فضل و کرم اپنے پر مانگو یا اللہ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت، اور وہ تو اب و رحیم نہ ہوتا اور کچھ شک نہیں کہ اللہ رجوع بحق فرمانے والا پختہ کار ہے۔ تفسیر۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت تم پر نہ ہوتا ( تو ایسے پر حکمت مسائل نازل نہ ہوتے) اللہ تعالیٰ تو بہ قبول کرنے والا اور حکمتوں والا ہے۔ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحمت سے بڑی حکمت سے بھرے احکام اس جگہ نازل فرمائے ہیں ۔ ( بدر جلد نمبر ۱۵ مورخہ ۱۳ جولائی ۱۹۰۵ء صفحه (۴) ١٢ - إِنَّ الَّذِينَ جَاءُو بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ لِكُلِّ امْرِى مِنْهُم مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ ۱۲ b مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ - ترجمہ ۔ جن لوگوں نے بہتان باندھا وہ تمہیں میں کی ایک جماعت تھی ۔ تم اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ بہتر ہے تمہارے حق میں ۔ ان میں سے ہر ایک مرد کے لئے وہی ہے جو اس نے گناہ کیا اور جس نے بہتان کا بڑا حصہ لیا ان لوگوں میں سے اس کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔ تفسیر - تولی کبر کا ۔ جس نے اس بات میں بڑا حصہ لیا اس کے لئے عذاب عظیم ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ / جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۱) تحقیق وہ لوگ جنہوں نے تہمت لگائی ہے۔ ایک گروہ ہے تم میں سے تم اس کو برا نہ سمجھو۔ اپنے لئے ۔ بلکہ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ ہر مرد کے لئے ہے جو اس نے کمایا گناہ سے اور جوان میں سے بڑی بات کے پیچھے پڑا اس کے لئے ہے بڑا عذاب ۔ اس آیت میں اشارہ ہے اس فتنہ کی طرف جبکہ بعض لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بدظنی کی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے حضرت عائشہ کا پاک ہونا ظاہر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ واقعہ مومنوں کے واسطے کسی تکلیف کا موجب نہیں۔ بلکہ سراسر فوائد کا باعث ہے۔ اوّل تو خود یہی واقعہ ایک بڑے بھاری مسئلہ کے حل ہو جانے کا موجب ہوا کہ جب کسی عورت پر اتہام لگایا