حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 191
حقائق الفرقان ۱۹۱ سُورَةُ النُّورِ ، وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمُ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَدَتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصُّدِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَذِبِينَ - ترجمہ ۔ اور جو لوگ بدکاری کا عیب لگائیں اپنی بیبیوں کو اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہو بجز ان کے نفس کے تو ایسے ایک شخص کی گواہی یہ ہے کہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ بلا شبہ وہ سچا ہے۔ اور پانچویں باریوں کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت اگر وہ جھوٹا ہو۔ تفسیر اور جولوگ اپنی بیویوں کو زنا کا عیب لگاتے ہیں ۔ اور سوائے اپنے اور کوئی گواہ ان کا نہیں ہے۔ پس وہ ایک ہی آدمی چار دفعہ اللہ کی قسم کھائے کہ میں سچ کہتا ہوں اور پانچویں دفعہ یوں کہے کہ اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو ۔ چونکہ ایک مردا اپنی بیوی کے ساتھ اس قسم کے تعلقات رکھتا ہے کہ باوجود کسی شہادت کے نہ ہونے کے جس سے وہ کھلے طور پر صفائی کے جرم ثابت کر سکے ۔ سکے ۔ اسکی اپنی دید اس امر کے واسطے اسطے کافی ہے کہ وہ اس ہے کہ وہ اس عورت سے دلی تنفر رکھے ۔ اس واسطے ایسے موقع پر صرف اسی کی پر زور شہادت پر اکتفا کیا۔ لیکن چونکہ بعض مرد ایسے ہوتے ہیں کہ کسی اور ناراضگی کے باعث بھی ایسی قسم کھانے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔ اس واسطے بالمقابل اس کے وہ حکم ہے جو اگلی آیت میں آتا ہے۔ ( بدر جلد نمبر ۱۵ مورخہ ۱۳ جولائی ۱۹۰۵ ء صفحه (۴) ۹، ۱۰ - وَيَدْرَوُا عَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَدَتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَذِبِينَ - وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصُّدِقِينَ - ترجمہ ۔ اور عورت سے سزا یوں دور ہوتی ہے کہ وہ گواہی دے چار بار کہ اللہ کی قسم بلا شک خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں باریوں کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب آوے اگر خاوند سچا ہو۔ تفسیر۔ اور اس عورت سے عذاب کو دور کر دیتی ہے یہ بات کہ وہ چار دفعہ خدا کی قسم کھائے کہ یہ شخص جھوٹ بولتا ہے۔ اور پانچویں دفعہ اس طرح قسم کھائے کہ اگر وہ مرد سچا ہے تو مجھ پر خدا کا غضب نازل ہو۔ ( بدر جلد نمبر ۱۵ مورخہ ۱۳ / جولائی ۱۹۰۵ ء صفحہ (۴)