حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 188 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 188

حقائق الفرقان ۱۸۸ سُورَةُ النُّورِ الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانِ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ۔ ترجمہ ۔ بدکار مرد بد کار عورت سے نکاح کرتا ہے یا مشرک عورت سے، اور بدکار عورت بدکار مرد سے نکاح کرے گی یا مشرک سے اور یہ ( نکاح زانیہ ) حرام کیا گیا ہے ایمانداروں پر۔ تفسیر بدکار تو بدکاروں یا بت پرست عورتوں کو ہی نکاح کرتے ہیں اور بدکار عورتیں بھی ایسی ہیں کہ انہیں بدکار یا مشرک ہی بیا ہیں ۔ اور ایمان والوں پر تو یہ باتیں حرام ہی ہیں۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۳۹) الزَّانِي لَا يَنكِحُ - زانی نکاح نہیں کرتا مگر کسی زانیہ سے ۔ حُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ - ذَلِكَ کے مرجع پر علماء میں بحث ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ زانیہ سے نکاح کرنا حرام ہے۔ اور بعض یہ کہ زنا حرام ہے۔ پھر علماء میں اختلاف ہے کہ تہمت زنالگانے والے کی گواہی جائز ہے یا نہیں؟ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ رجولائی ۱۹۱۰ صفحہ ۱۸۱) زنا کرنے والا مرد نہیں نکاح کیا کرتا مگر ایسی عورت سے جو زنا کار ہو چکی ہے۔ یا کسی مشرکہ عورت سے اور زنا کرنے والی عورت نہیں نکاح کیا کرتی مگر کسی ایسے مرد سے جو زنا کار ہو چکا ہو۔ یا کسی مشرک سے اور حرام ہے یہ بات مومنوں پر ۔ کیا معنے ۔ کوئی مؤمن زنا کار سے نکاح نہ کرے۔ تعلقات شادی سے پہلے جہاں دوسرے امور کی تحقیق و تفتیش کی جاتی ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ اچھی طرح سے دریافت کر لیا جائے کہ مرد یا عورت ایسے نہ ہوں جو زنا میں گرفتار ہیں ۔ یہ تجربہ کی بات ہے کہ نیک بدکار کے مناسب حال نہیں ہوتا۔ اور بد کار نیک کے مناسب حال نہیں ہوتا۔ سوال - التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ جب گناہ سے تو بہ کرنے کے بعد تائبہ ایسی ہو جاتی ہے کہ گویا اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں تو پھر دوسری عورتوں کی طرح اس کا نکاح مومن کے ساتھ کیوں جائز نہیں؟ وں جائز ہیں؟ جواب: ایک کنچنی اپنے پیشہ کو چھوڑنے کے بعد بھی سب کے درمیان کنچنی ہی کہلاتی ہے کوئی اس