حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 181
حقائق الفرقان ۱۸۱ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ دکھانے پر قادر ہیں ۔ یہ نہیں فرمایا کہ ضرور وہ وعدہ اسی رنگ میں پورا کریں گے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ قادر ہیں۔ چاہیں تو اسے بدل کر کسی اور رنگ میں پورا کر دیں۔ یہ نکتہ معرفت اگر خوب سمجھ لیا جائے تو پھر بروز محمد علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں پر کوئی اعتراض نہیں رہتا۔ ( تشحید الاذہان جلد ۶ نمبر ۱۰ ۔ ماہ اکتوبر ۱۹۱۱ ء صفحه ۳۹۷) ۹۷ - ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ - ترجمہ ۔ برائی کا دفعیہ ایسی خصلت سے کر جو بہت اچھی ہو ۔ ہم تو بخوبی جانتے ہیں یہ لوگ جو بیان کیا کرتے ہیں۔ تفسیر - ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ - اگر کوئی بدی ہو تو اس کیلئے عمدہ تدبیر سوچتے رہو کہ یہ بدی کس طرح دور ہو۔ بدیوں کے دور کرنے کیلئے بار یک دربار یک تدابیر ہیں ۔ منجملہ ان کے ایک دعا ہے پھر قول موجہ سمجھانا۔ علانیہ نصیحت کرنا بھی ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ ر جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۱) ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ (المؤمنون: ۹۷) ہٹاوے ایسی ترکیب سے کہ وہ خوبیاں رکھتی ہو ہر ایک بدی کو ۔ بدی کو دور کرنے کے لئے عمدہ تدابیر کرتے رہو۔ مثلاً بدکار کے لئے دعا کرو جیسے انبیاء کرتے تھے۔ قول موجہ اور دلائل قویہ سے ہر بدکار کو سمجھاؤ ۔ اگر مناسب مفید ہو تو اس سے اعراض کرو ۔ ترک سلام کر وحتی کہ مفید ہو تدابیر مناسبہ کے ساتھ پیٹنا سزا دینا جیسے حدود سرقہ و زنا میں وارد ہے مقابلہ ہی دفاع بالحسنہ ہے۔ یہ عجیب در عجیب تدابیر سو چنا اور بدی کو دنیا سے یا کسی شخص سے یا قوم سے دور کرنا بڑے صابر ومتقی۔ کا کام ہے ۔ ( بدر جلد ۹ نمبر ۸ مورخه ۱۶ / دسمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۳) ۹۹- وَ أَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ - ترجمہ ۔ اور تیری پناہ چاہتا ہوں اے میرے رب ! اس سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں ۔ تفسیر - رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ ۔ کوئی بدکار میرے پاس بھی نہ آنے پائے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۷ مورخہ ۷ / جولائی ۱۹۱۰ ء صفحہ ۱۸۱)