حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 9
حقائق الفرقان ۹ سُورَةُ مَرْيَمَ ۲۷ - فَكُلِي وَاشْرَبِي وَقَرِى عَيْنًا ۚ فَإِمَّا تَرَينَ مِنَ الْبَشَرِ أَحَدًا فَقُولَ إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَنِ صَوْمًا فَلَنْ أَكَلِّمَ الْيَوْمَ انْسِيًّا ۔ ترجمہ۔ تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی کر پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو کہہ دینا میں نے رحمان کے لئے منت کا روزہ رکھا ہے تو میں ہر گز بات نہ کروں گی آج کسی آدمی سے ۔ تفسیر - فرمایا ۔ فَلَنْ أَكَلمَ الْيَوْمَ (مريم - ۲۷) لفظ لن مدت دراز کے لئے نہیں کہا جاتا ہے اور لفظ لا چونکہ اونچا جاتا ہے یہ دوام کے لئے آسکتا ہے۔ جو لوگ کہ شرار تا رویت کے قائل نہیں ان کا اس سے رد ہو سکتا ہے کہ وہاں لن فرمایا ہے نہ کہ لا۔ ( بدر جلد ا ا نمبر ۷۶ مورخہ ۲۳ نومبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۳) ۲۸ - فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ قَالُوا يُمَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا - ترجمہ ۔ پھر اس کو لائی اپنی قوم کے پاس اونٹ پر بٹھا کر ۔ قوم نے کہا۔ اے مریم البتہ یہ تو یوانوکھا بچہ لائی ( نبوت کا مدعی ) ۔ تفسیر قرآن مجید کوئی تاریخ کی کتاب نہیں کہ مسلسل واقعات کا ذکر کرے۔ جیسے پیچھے انا نُبَشِّرُكَ بِغُلَمِ إِسْةَ يَحْیى کے بعد لِيَحْلِى خُذِ الْكِتَبَ بِقُوَّةٍ فرما دیا۔ اور درمیانی واقعات کا ذکر نہیں فرمایا۔ ایسا ہی یہاں فَاتَتْ به قَوْمَهَا فرمادیا ۔ اور یہاں مصر سے واپس آنے کا ذکر ہے۔ تحمله - کے یہ معنے نہیں کہ گود میں اُٹھائے لائی بلکہ سوار کر کے لائی۔ دوسرے مقام پر یہ محاورہ قرآن مجید میں موجود ہے إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ (التوبة: ۹۲) اب اس کے یہ یہ معنے معنے تو تو نہیں کہ ان لوگوں وں نے نے درخواست درخواست کی کہ نبی کریم (صلی ا الله علیہ وسلم ) ہمیں اپنی گود میں اٹھالیں ۔ بلکہ سواری مہیا کرنے کے معنے ہیں ۔ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا ۔ سے مراد عجیب امر لائی ہو۔ اور کیوں ایسا نہ ہو ( وہ کہتے ہیں ) تیری ماں بھی نیک پارسا تھی۔ تیرا باپ بھی اچھا آدمی تھا۔ اچھوں کے اچھے ہوتے ہیں ۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۳ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۱۱ صفحه (۲) فاتت ہے۔ مصر میں بہت مدت رہے پھر وہاں سے کنعان میں آئے۔ تحمله - اٹھالائیں ۔۔۔۔۔ جس اونٹ پر تھیں ۔۔۔۔۔ پیچھے بھی تھیں اور آگے ۔ وہ جیسا کہ پارہ ۱۰ لے جب وہ تیرے پاس آئے ہوں کہ تو ان کو سواری دے دے تو نے جواب دیا ہو میرے پاس تو کوئی سواری نہیں جس پر میں تم کو چڑھا دوں ۔