حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 176 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 176

حقائق الفرقان ۱۷۶ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ پس مومن وہ ہوتے ہیں۔ خیرات میں وہ بڑھتے ہیں جو ان اعمال وافعال کے وقت علیم وخبیر کی ذات اور نگرانیوں پر نگاہ کرتے ہیں اور ہر آن خوف و خشیت النبی سے لرزاں رہتے ہیں۔ اس لئے ہر ایک کام میں خواہ کھانے پینے کا ہو، یا بغض و عداوت ہو، دوستی ہو یا دشمنی ہر بات میں خوش رہنے اور بڑھ کر رہنے کیلئے پہلا اور ضروری اصل کیا ہے؟ خشیت النبی عمل کرنے سے پہلے دیکھ لیا کرو کہ یہ عمل خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کی وجہ سے کسی سرخروئی کا باعث ہے یا اس کی نارضامندی کا موجب ہو کر سیاہ روئی کا پیش خیمہ؟ خوف الہی کے بعد دو اصل اور ہیں۔ وہ کیا ؟ ایک اخلاص دوسرا صواب۔ کوئی عمل صالح ہو نہیں سکتا جب تک اخلاص اور صواب نہ ہو۔ اخلاص کیا ہے؟ اخلاص کے معنے ہیں کہ جو کام کرو اس میں یہ مد نظر ہو کہ مولا کریم کی رضا حاصل ہو جب ہو تو حُب اللہ ہو۔ بغض ہو تو بغض اللہ ہو ۔ کھاؤ تو اس لئے کہ کھانے کا حکم دیا ہے۔ پیتے ہو تو سمجھ لو کہ وَاشْرَبُوا کے حکم کی تعمیل ہے۔ غرض سارے کاموں میں اخلاص ہو۔ رسم و عادت نفس و ہوا کی ظلمت نہ ہو ۔ اندرونی جوش اس کے باعث نہ ہوئے ہوں۔ صواب کیا ہے؟ کہ ہر بھلا کام اس طرح پر کیا جاوے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم نے اس کا حکم دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کر کے دکھایا ہے۔ اگر نیکی کرے مگر نہ اُس طرح جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سکھائی ہے وہ راہ صواب نہیں ۔ غرض یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کام کے کرنے میں اجازت سرکاری ہے یا نہیں ۔ اور پھر اللہ کی رضا مقصود ہے یا نہیں ۔ پس کام کر و خشیت الہی سے اور پھر اخلاص وصواب ہے۔ وَ الَّذِينَ هُمْ بِأَيْتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ ۔ اللہ تعالیٰ کے احکام پر ایمان لاتے ہیں اور وَالَّذِینَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا يُشْرِكُونَ ۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعمال اور ترک اعمال میں کسی کو شریک نہیں کرتے۔ نیکی کو اس لئے کرے کہ خدا تعالیٰ کی رضا کا باعث ہے اور اسی کے لئے اس کو کرے اور بدیوں سے اس لئے اجتناب کرے کہ خدا نے ان کو برا فرمایا۔ اور ان سے روکا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع مد نظر رکھ کر نیکی کرے۔ نیکی کرتا ہوا بھی خوف الہی کو دل میں جگہ دے