حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 169 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 169

حقائق الفرقان ١٦٩ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ تا خدا کی پاک اور سچی وحی کو ملتبس کریں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جیسے رَمال، احمق جفار، گنڈے والے، فال والے ایک سچائی کے ساتھ جھوٹ ملاتے ہیں اسی طرح اس سچائی کا بھی خون کریں۔ اس ہی خیالات کا عکس لئے کہہ دیتے ہیں کہ یہ دھت کی باتیں ہیں۔ یہ وعدے اور یہ پیشگوئیاں اپنے ہی خیالات کا ہیں۔ دوستوں کیلئے بشارتیں اور اعداء کیلئے انذار ۔ یہ جنوں کا رنگ رکھتے ہیں ۔ عیسائی اور آریہ اب تک اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں اپنے مطلب کی وحی بنا لیتے ہیں۔ اور دور کیوں جائیں اس وقت کے کم عقل مخالف بھی یہی کہتے ہیں۔ مگر ایک عجیب بات میرے دل میں کھٹکتی ہے کہ وہ کافر جو نوح علیہ السلام کے مقابل میں تھے انہوں نے یہ کہا فَتَرَبَّصُوا بِهِ حَتَّى حِينِ (المؤمنون : ٢٦) چند روز اور انتظار کر لو۔ اگر یہ جھوٹا اور کاذب مفتری ہے تو خود ہی ہلاک ہو جاوے گا۔ مگر ہمارے وقت کے ناعاقبت اندیش اندھوں اور نادانوں کو اتنی بھی خبر نہیں اور ان میں اتنی بھی صلاحیت اور صبر نہیں جو نوح کے مخالفوں میں تھا۔ وہ کہتے ہیں فَتَرَبَّصُوا بِهِ حَتَّی حِینِ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ کاذب کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ اس کی گردن پر جھوٹ سوار ہوتا ہے۔ خود اس کا جھوٹ ہی اس کی ہلاکت کیلئے کافی ہوتا ہے مگر وہ لوگ کیسے کم عقل اور نادان ہیں جو اس سچائی سے بھی دور جا پڑے ہیں۔ اور اس معیار پر صادق اور کا ذب کی شناخت نہیں کر سکتے ۔ میرے سامنے بعض نادانوں نے یہ عذر پیش کیا ہے کہ مفتری کیلئے مہلت مل جاتی ہے قطع نظر اس بات کے کہ ان کے ایسے بیہودہ دعوٹی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور آپ کی نبوت پر کس قدر حرف آتا ہے۔ قطع نظر اس کے ان نادانوں کو اتنا معلوم نہیں ہوتا کہ قرآن کریم کی پاک تعلیم پر اس قسم کے اعتراف سے کیا حرف آتا ہے۔ اور کیونکر انبیاء ورسل کے پاک سلسلہ پر سے امان اٹھ جاتا ہے؟ میں پوچھتا ہوں کہ کوئی ہمیں بتائے کہ آدم سے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک اور آپ سے لے کر اس وقت تک کیا کوئی ایسا مفتری گزرا ہے۔ جس نے یہ دعوی کیا ہو کہ وہ خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے اور وہ کلام جس کی بابت اس نے دعویٰ کیا ہو کہ خدا کا کلام ہے۔ اس نے شائع کیا ہو اور پھر اسے مہلت ملی ہو۔ قرآن شریف میں ایسے مفتری کا تذکرہ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک