حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 166 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 166

حقائق الفرقان ۱۶۶ سُورَةُ الْمُؤْمِنُونَ پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں جو انہیں یا تو چکنا چور کر دیتے ہیں۔ اور یا وہ ذلیل و خوار حالت میں رہ جاتے ہیں اور یا منافقانہ رنگ میں شریک ہو جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین قسم قسم ۔ کے لوگ ہوتے ہوتے۔ تھے۔ ایک وہ جو سابق اول من ن المهاجرین المہاجرین تھے اور دوسرے ے وہ وہ جو جو فتح کے بعد ملے ہیں اور تیسرے اس وقت جو رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (النصر : ۳) کے مصداق تھے۔ اسی طرح جو لوگ عظمت و جبروت النبی کو پہلے نہیں دیکھ سکتے آخران کو داخل ہونا پڑتا ہے اور اپنی بودی طبیعت سے اپنے سے زبر دست کے سامنے مامور من اللہ کو ماننا پڑتا ہے اور بلکہ آخر يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَغِرُونَ (التوبة: ۳۰) کے مصداق ہو کر رہنا پڑتا ہے۔ پھر اس سے ایک اور گندہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جب ملائکہ بھی نہیں آتے ۔ ہمیں بھی الہام نہیں ہوتا۔ کشف نہیں ہوتا۔ اور یہ دوکاندار بھی نہ سہی۔ مگر یہ بھی تو دیکھیں کہ کیا ہمارے پیشوایان مذہب نے اس کو مان لیا ہے؟ وہ لوگ چونکہ اپنے نفس کے غلام اور اپنے جذبات کے تابع فرمان ہوتے ہیں۔ اس لئے پھر کہہ دیتے ہیں کہ مَا سَمِعْنَا بِهذا فِي آبَاءنَا الْأَوَّلِينَ ہم نے یہ باتیں جو یہ بیان کرتا ہے اپنے آبا واجداد سے تو کبھی بھی نہیں سنی ہیں ۔ جب کوئی مامور من اللہ آتا ہے تو نادان بد قسمتی سے یہ اعتراض بھی ضرور کرتے ہیں کہ یہ تو نئی نئی بدعتیں نکالتا ہے اور ایسی تعلیم دیتا ہے جس کا ذکر بھی ہم نے اپنے بزرگوں سے نہیں سنا۔ اس وقت بھی جب خدا کی طرف سے ایک مامور ہو کر آیا اور اس نے سنت انبیاء کے موافق ان بدعتوں اور مشرکا نہ تعلیموں کو دور کرنا چاہا جو قوم میں بعد زمانہ کے باعث پھیل گئی تھیں تو ناعاقبت اندیش نا قدر شناس قوم نے بجائے اس کے کہ اس کی آواز پر آگے بڑھ کر لبیک کہتی اس کی مخالفت شروع کی اور نوح کی قوم کی طرح اس کی باتوں کو سن کر یہی کہا مَا سَمِعْنَا بِهذا فِي آبَاءِ نَا الْأَوَّلِينَ ۔ یہ لے تو دیکھے لوگوں کو کہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں ۔ وہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے اور وہ بے قدر ذلیل ہوں ۔