حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 164 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 164

حقائق الفرقان ۱۶۴ سُوْرَةُ الْمُؤْمِنُونَ میں کہتا ہوں کہ اگر یہ سوء ظن کا مرض تمہارے ساتھ ہے تو یہ آیات تم پر حجت ہو کر تمہارے ابتلا کا موجب ہیں اس لئے ہر وقت ڈرتے رہو اور اپنے اندر کا محاسبہ کر کے استغفار اور حفاظت البی طلب کرو۔ میں پھر کہتا ہوں کہ آیات اللہ جن کے باعث کسی کو رفعت شان کا مرتبہ عطا ہوتا ہے ان پر تمہیں اطلاع نہیں وہ الگ مرتبہ رکھتی ہیں مگر وہ چیزیں جن سے خود رائی ، خود پسندی ، خود غرضی، تحقیر، بدظنی اور خطرناک بدظنی پیدا ہوتی ہے وہ انسان کو ہلاک کرنے والی ہیں ۔ ایک ایسے انسان کا قصہ قرآن میں ہے۔جس نے آیات اللہ دیکھے مگر اس کی نسبت ارشاد ہوتا ہے وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعُتُهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ اخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف: ۱۷۷) اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے إِيَّا كُمْ وَ الظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ اَكْذَبُ الْحَدِيثِ بدگمانیوں سے اپنے آپ کو بچاؤ ورنہ نہایت ہی خطر ناک جھوٹ میں مبتلا ہو کر قرب الہی سے محروم ہو جاؤ گے۔ یاد رکھو حسن ظن والے کو کبھی نقصان نہیں پہونچتا ۔ مگر بدظنی کرنے والا ہمیشہ خسارہ میں رہتا ہے غرض پہلا مرحلہ جو انبیاء علیہم السلام کے مخالفوں اور ان کی ذریت اور نوابوں کو پیش آیا۔ وہ یہ تھا کہ اپنے آپ پر قیاس کیا۔ پھر یہ بدظنی کی کہ يُرِيدُ أَنْ يَتَفَضَّلَ عَلَيْكُمُ (المؤمنون: ۲۵) تم پر فضیلت چاہتا ہے۔ پس اس پہلی اینٹ پر جو ٹیڑھی رکھی جاتی ہے۔ جو دیوار اس پر بنائی جاوے خواہ وہ کتنی ہی لمبی اور اونچی ہو مگر کبھی مستقیم نہیں ہو سکتی ۔ وہ آخر گرے گی اور نیچے کے نقطہ پر پہونچے گی۔ سوء ظن کرنے والا نہ صرف اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔ بلکہ اس کا اثر اس کی اولاد پر، اعقاب پر ا ہوتا ہے اور وہ ان پر مصیبت کے پہاڑ گراتا ہے۔ جن کے نیچے ہمیشہ راست بازوں کے مخالفوں کا سر کچلا گیا ہے۔ میں بار بار کہتا ہوں کہ یہ سوء ظن خطر ناک بلا ہے۔ جو اپنے غلط قیاس سے شروع ہوتا ہے۔ پھر غلط نتائج نکال کر قوانین کلیہ تجویز کرتا ہے۔ اور اس پر غلط ثمرات مترتب ہوتے ہیں اور آخر قوم نوح ے اور اگر ہم چاہتے تو اس کو رفع دیتے ان نشانیوں سے لیکن وہ زمینی چیزوں ہی کی طرف جھکا۔